کاروار (فکروخبرنیوز) ضلع اترا کنڑ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) دیپن ایم این نے ایک خصوصی ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کم عمر بچوں کی جانب سے موٹر سائیکل اور دیگر گاڑیاں چلانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے اٹھارہ سال سے کم عمر کے لڑکوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے سے گریز کریں، کیونکہ یہ نہ صرف قانوناً جرم ہے بلکہ ان کی جان کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
ایس پی دیپن ایم نے کہا کہ ضلع بھر میں ایسے متعدد واقعات سامنے آرہے ہیں جہاں 18 سال سے کم عمر لڑکے بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے موٹر سائیکل اور دیگر گاڑیاں چلاتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ موٹر وہیکل ایکٹ کی دفعہ 199A کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر کے لڑکوں کو گاڑی چلانے دینا قابلِ سزا جرم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی کم عمر لڑکا گاڑی چلاتے ہوئے پکڑا جاتا ہے تو اس کی ذمہ داری براہِ راست والدین یا گاڑی کے مالک پر عائد ہوگی۔ ایسے معاملات میں متعلقہ والدین یا گاڑی مالک کو تین سال تک قید اور 25 ہزار روپے تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ گاڑی کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (RC) ایک سال تک معطل یا منسوخ کیا جاسکتا ہے۔
ایس پی نے مزید کہا کہ قانون کے مطابق ایسے نابالغ بچوں کو مستقبل میں بھی سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ ان کے لیے 25 سال کی عمر تک ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر حفاظت اور ٹریفک نظم و ضبط کو برقرار رکھنا صرف پولیس کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے والدین، سرپرستوں اور عوامی تعاون کی بھی اشد ضرورت ہے۔ والدین اگر اپنے بچوں کی حفاظت چاہتے ہیں تو انہیں قانون کی پابندی کرتے ہوئے صرف مقررہ عمر کے بعد ہی گاڑی چلانے کی اجازت دینی چاہیے۔
ایس پی دیپن ایم نے والدین سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ گاڑی کی چابی اپنے کم عمر بچوں کے حوالے کرنے سے قبل ایک مرتبہ نہیں بلکہ بار بار سوچیں، کیونکہ کم عمر بچوں کی جانب سے گاڑی چلانا خود ان کی جان، دیگر راہگیروں اور سڑک استعمال کرنے والے تمام افراد کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔




