کانپور میں حجاب تنازع،باحجاب مسلم خاتون سے بدسلوکی، دوا دینے سے انکار

اتر پردیش کے صنعتی شہر کانپور سے ایک انتہائی تشویشناک اور افسوسناک معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک مسلم خاتون نے سرکاری اسپتال کے عملے پر حجاب کی وجہ سے امتیازی سلوک کرنے اور دوا فراہم نہ کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ یہ واقعہ کانپور کے معروف ارسلا ہورمین میموریل اسپتال کا ہے، جہاں منگل کے روز ایک متاثرہ مسلم خاتون کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی اور سماجی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ متاثرہ خاتون نے اسپتال کی دو خاتون ڈاکٹروں پر براہِ راست بدسلوکی کا الزام لگایا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق متاثرہ خاتون اپنے علاج کے لیے اسپتال پہنچیں اور ٹوکن نمبر ملنے کے بعد تقریباً آدھے سے ایک گھنٹے تک اپنی باری کا انتظار کرتی رہیں۔ جب وہ دوا لینے کے لیے متعلقہ کاؤنٹر یا کیبن میں داخل ہوئیں تو وہاں موجود دو خاتون ڈاکٹروں نے انہیں ٹوک دیا اور دوا دینے سے قبل اپنا حجاب اتارنے کا حکم دیا۔ خاتون نے جب اس کی وجہ پوچھی تو ڈاکٹروں نے مبینہ طور پر سیکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسپتال کے اندر چوری کی وارداتیں بڑھ گئی ہیں، اس لیے حجاب اتار کر ہی اندر آنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

متاثرہ مسلم خاتون نے اسپتال انتظامیہ کے اس عجیب و غریب اور بے بنیاد اصول پر سخت اعتراض کا اظہار کیا ہے۔ وائرل ویڈیو میں خاتون کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اگر چہرے سے ماسک ہٹانے کے لیے کہا جاتا تو وہ بات سمجھ میں آتی تھی، لیکن حجاب ہٹانے کا مطالبہ سراسر ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے اپنے سر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا کوئی حجاب کے اندر پرس یا چوری کا سامان چھپا سکتا ہے؟ خاتون نے مزید کہا کہ جب پورے اسپتال میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں اور نگرانی کا نظام موجود ہے، تو چوری کا بہانہ بنا کر صرف مسلم خواتین کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ دوسری کمیونٹی کی خواتین کو بغیر کسی روک ٹوک کے جانے دیا جا رہا ہے، جبکہ مسلم خواتین کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیا گیا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں اور مسلم تنظیموں نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی سرکاری ادارے بالخصوص ہیلتھ کیئر یا اسپتال جیسے حساس مقامات پر کسی مریض کو اس کے مذہبی لباس یا شناخت کی بنیاد پر علاج اور ادویات سے محروم کرنا بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں اور بھارتی آئین کے دفعہ 25 کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے خلاف ہے۔ اس قسم کے اقدامات سے اقلیتی برادری میں عدم تحفظ اور بیگانگی کا احساس مزید گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔

اس پورے معاملے پر اب تک ارسلا ہاسپیٹل انتظامیہ یا مقامی محکمہ صحت کی جانب سے کوئی باضابطہ موقف یا وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔ متاثرہ خاتون نے اس ناانصافی کے خلاف اسپتال کے اعلیٰ حکام سے رجوع کرنے اور تحریری شکایت درج کرانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے یوپی حکومت اور کانپور انتظامیہ سے ملوث ڈاکٹروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی شہری کے ساتھ اس کی مذہبی شناخت کی وجہ سے ایسا ناروا سلوک نہ ہو۔

شیئر کریں۔