اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک بار پھر متنازع اصطلاحات کا سہارا لیتے ہوئے سخت گیر موقف اختیار کیا ہے۔ منگل کے روز ایک مذہبی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ بھارت کو کسی بھی صورت میں ایسی جگہ یا ’دھرم شالہ‘ نہیں بننے دیا جائے گا جہاں ملک کی روایات، تہذیب اور اقدار کا احترام نہ کرنے والے لوگ آ کر رہیں۔ وزیر اعلیٰ کا یہ بیان لکھنؤ میں منعقدہ نو روزہ شری رام کتھا مہوتسو کی اختتامی تقریب کے دوران سامنے آیا، جہاں انہوں نے ملک کی بدلتی ہوئی مذہبی آبادیاتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اپنے خطاب کے دوران یوگی آدتیہ ناتھ نے دعویٰ کیا کہ بھارت کی سرزمین پر ایسے عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے جو ملک کے ساتھ وفاداری نہیں رکھتے۔ انہوں نے لکچر کے دوران نام نہاد ’لو جہاد‘، ’لینڈ جہاد‘ اور مبینہ طور پر منظم طریقے سے کی جانے والی مذہبی تبدیلیوں کو ملک کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ طاقتیں ملک کے اندرونی توازن اور مذہبی شناخت کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جن کے خلاف عوامی سطح پر بیداری پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے اتر پردیش حکومت کی جانب سے سال 2020 میں منظور کیے گئے تبدیلیِ مذہب مخالف قانون کا خصوصیت سے ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے غیر قانونی اور زبردستی تبدیلیِ مذہب کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں اور مستقبل میں بھی ایسے عناصر کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی جو سماجی توازن کو بگاڑنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے سادھو سنتوں اور سماجی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر ایسی قوتوں کا مقابلہ کریں جو معاشرے کو ذات پات، زبان اور خطوں کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتی ہیں۔
سیاسی مبصرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے بیانات سے اقلیتی برادریوں بالخصوص مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ’لو جہاد‘ اور ’لینڈ جہاد‘ جیسے الفاظ کا قانونی طور پر کوئی وجود نہیں ہے، اور ان اصطلاحات کا استعمال اکثر سیاسی مفادات اور معاشرتی پولرائزیشن کے لیے کیا جاتا ہے۔ مسلم رہنماؤں اور دانشوروں کی جانب سے ماضی میں بھی ایسے بیانات کی سخت مذمت کی گئی ہے، اور ان کا مؤقف ہے کہ یہ بیانات ملک کے آئین اور سیکولر اقدار کے منافی ہیں۔
آنے والے دنوں میں اس بیان کے سیاسی اثرات اتر پردیش اور قومی سطح پر دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ حزبِ اختلاف کی جماعتیں اس معاملے پر یوگی حکومت کو گھیرنے کی تیاری کر رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف حکمران جماعت اس موقف کو سیکیورٹی اور قومی سالمیت کے لیے ناگزیر قرار دے رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اس بیان بازی کے بعد ریاست میں امن و امان کی صورتحال اور سیاسی درجہ حرارت کیا رخ اختیار کرتا ہے۔




