نئی دہلی میں ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے ایک انتہائی اہم اور انسانی ہمدردی پر مبنی فیصلہ سناتے ہوئے آسام کی چار مسلم خواتین کی بنگلہ دیش ملک بدری پر عبوری حکمِ امتناع (اسٹے) جاری کر دیا ہے۔ ان خواتین کو آسام کے مقامی ‘فارنرز ٹریبیونل’ نے یکطرفہ اور انتہائی سخت گیر رویہ اپناتے ہوئے غیر ملکی یا دفعہ 1971 کے بعد کا غیر قانونی تارکِ وطن قرار دے دیا تھا، جس کے بعد انہیں اپنی ہی مٹی سے بے دخل کیے جانے کا شدید خطرہ لاحق تھا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل تعطیلاتی بنچ نے اس معاملے کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے مرکزی حکومت، آسام کی ریاستی حکومت اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کو باضابطہ نوٹس جاری کر کے چار ہفتوں کے اندر تفصیلی جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔
متاثرہ درخواست گزار خواتین جن میں بسیرام نسا، مست نوریزا بیگم، صالحہ خاتون اور ساربھانو بیگم شامل ہیں، طویل عرصے سے آسام میں اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے قانونی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ان خواتین نے عدالت عظمیٰ کے سامنے موقف اختیار کیا کہ وہ نسل در نسل اسی ملک کی شہری ہیں اور انہوں نے ٹریبیونل کے سامنے 1971 سے پہلے کے تمام معتبر دستاویزی ثبوت، ووٹر لسٹیں اور آبائی روابط (Legacy Data) پیش کیے تھے، لیکن اس کے باوجود محض معمولی تکنیکی خامیوں کی بنیاد پر ان کی ہندوستانی شہریت کو مسترد کر دیا گیا۔ ان میں سے پچاس سالہ صالحہ خاتون اور ساربھانو بیگم گزشتہ دو مارچ سے آسام کے بدنامِ زمانہ ‘گولپارہ ڈیٹینشن کیمپ’ میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں قید ہیں اور گھر کے کام کاج کر کے گزر بسر کرنے والی ان غریب و ناخواندہ خواتین کو اپنے خاندانوں سے زبردستی الگ کر دیا گیا ہے۔
عدالتی دستاویزات اور حاصل کردہ مانیٹرنگ رپورٹس کے مطابق آسام کے فارنرز ٹریبیونلز پر اکثر یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ وہ انتہائی ہائپر ٹیکنیکل (Hyper-technical) اور متعصبانہ انداز میں کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ساربھانو بیگم کی شہریت صرف اس لیے چھین لی گئی کیونکہ مختلف ووٹر لسٹوں میں ان کے نام کے ہجے (Spelling) میں معمولی فرق پایا گیا، کہیں ان کا نام ‘سوربھانو’ تو کہیں ‘شھربھانو’ درج تھا، جبکہ ایک جگہ ان کے شوہر کے نام میں معمولی فرق تھا۔ اسی طرح صالحہ خاتون نے ناگون ضلع کے ناگابندھا گائوں سے تعلق رکھنے والے اپنے والدین احسن علی اور کرپلوجن کے 1971 سے پہلے کے انتخابی ریکارڈ اور این آر سی کے دستاویزی ثبوت پیش کیے، لیکن ٹریبیونل نے ان دستاویزات کو جاری کرنے والے سرکاری محکمے کی تصدیق نہ ہونے کا بہانہ بنا کر دسمبر 2025 میں ان کا دعویٰ مسترد کر دیا، جسے بعد میں گوہاٹی ہائی کورٹ نے بھی بغیر شواہد کی گہرائی میں جائے برقرار رکھا۔
دوسری جانب، خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والی ایک اور ناخواندہ خاتون مست نوریزا بیگم کے خلاف ٹریبیونل نے اس وقت یکطرفہ (Ex-parte) فیصلہ سنا دیا جب وہ نوٹس ملنے پر وہاں حاضر تو ہوئیں لیکن قانون سے ناواقفیت کے باعث صرف ایک رجسٹر پر دستخط کر کے واپس آ گئیں، اور یہ سمجھیں کہ ان کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ ان تمام خواتین کے وکلاء نے سپریم کورٹ میں اصرار کیا کہ آسام کی مسلم برادری، بالخصوص پسماندہ اور ان پڑھ خواتین کو ناموں کی غلطیوں یا انتظامی سطح پر ہونے والی انسانی چوک (Human Errors) کا نشانہ بنا کر بنیادی حقوق اور آزادی سے محروم کیا جا رہا ہے، جو کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں اور آئین کے آرٹیکل 21 (حقِ زندگی) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کے تحفظات کو درست تسلیم کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ اب اگلی سماعت کی تاریخ یعنی 16 جولائی تک ان خواتین کی موجودہ حیثیت (Status Quo) کو برقرار رکھا جائے اور انہیں کسی بھی صورت میں ملک بدر نہ کیا جائے۔ سپریم کورٹ کا یہ اقدام آسام میں شہریت کی تصدیق کے نام پر جاری اس پیچیدہ اور پریشان کن عمل میں ایک بڑی نظیر ثابت ہو سکتا ہے، جہاں لاکھوں جائز شہریوں کو محض کاغذات کی معمولی خامیاں دور نہ کرنے پر غیر ملکی بنا دینے کا سنگین بحران درپیش ہے۔




