کرناٹک میں جنوب مغربی مانسون کی پیش قدمی کے ساتھ ہی ریاست کے متعدد حصوں میں بڑے پیمانے پر بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ساحلی پٹی اور ملناڈ کے اضلاع سمیت جنوبی اور شمالی اندرونی علاقوں کے لیے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ موسمیاتی ماہرین کے مطابق اگلے چند دنوں کے دوران ریاست میں بارشوں کی شدت میں مزید اضافہ ہوگا، جس کے لیے انتظامیہ کو چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق بحیرہ عرب کے مشرقی وسطیٰ حصے کے اوپر فضا میں ہوا کا ایک چکراتی نظام یعنی سائکلونک سرکولیشن بن چکا ہے، جبکہ ایک ٹراف لائن ساحلی کرناٹک سے گزر رہی ہے۔ ان دونوں طاقتور موسمیاتی عوامل کی وجہ سے ریاست بھر میں بادل برسنے کا عمل تیز ہو گیا ہے۔ ساحلی اضلاع دکشن کنڑ اور اڈوپی میں پیر اور منگل کے روز شدید ترین بارشوں کا امکان ظاہر کرتے ہوئے ریڈ الرٹ نافذ کیا گیا ہے، جبکہ شیموگہ، چکمگلور اور اتر کنڑ میں منگل اور بدھ کو شدید ترین بارشیں متوقع ہیں۔ مانسون کے آگے بڑھنے کے ساتھ ہی شمالی کرناٹک کے اضلاع بیلاگاوی، دھارواڑ اور ہاویری میں بھی بدھ کے روز کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
ساحلی اضلاع دکشن کنڑ، اڈوپی اور اتر کنڑ میں اس دوران تیس سے چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے اور شدید ترین بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو تیرہ جون تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتی ہیں۔ جنوبی اندرونی کرناٹک کے اضلاع بشمول چکمگلور، شیموگہ اور کوڈاگو میں پیر سے جمعرات کے درمیان طوفانی بارشیں ریکارڈ کی جا سکتی ہیں۔ دوسری جانب دارالحکومت بنگلور اربن، بنگلور رورل، میسور، مانڈیا، رام نگر، ہاسن اور تمکور میں ہلکی سے معتدل بارش کے ساتھ تیز ہوائیں چلنے کی توقع ہے، جس سے موسم خوشگوار رہے گا تاہم روزمرہ کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔
شمالی اندرونی کرناٹک کے اضلاع بیلاگاوی، دھارواڑ، ہاویری، گدگ اور رائے چور میں بھی پیر سے بدھ کے درمیان چالیس سے پچاس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کا امکان ہے۔ بنگلور شہر میں مطلع ابر آلود رہنے، ہلکی بارش اور درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ تیس ڈگری اور کم سے کم اکیس ڈگری سیلسیس کے آس پاس رہنے کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات نے فی الحال درجہ حرارت میں کسی بڑی تبدیلی یا ہیٹ ویو کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی ہے۔
اس شدید موسمی صورتحال کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے نشیبی اور حساس علاقوں، خاص طور پر ساحلی اور پہاڑی مقامات پر رہنے والے شہریوں کو الرٹ رہنے کی تاکید کی ہے۔ تیز ہواؤں اور مسلسل بارشوں کی وجہ سے درختوں کے گرنے، سڑکوں پر پانی جمع ہونے اور مقامی سطح پر سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی خدمات کو تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی دوران اتوار کے روز بنگلور شہر کے وسط میں واقع راج بھون روڈ کو انفنٹری روڈ سے جوڑنے والی اہم شاہراہ پر ایک بہت بڑا درخت گرنے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ اس حادثے میں کچھ راہگیروں کو معمولی چوٹیں آئیں اور پرانی ایل آر ڈی ای عمارت کی حفاظتی دیوار کو بھی نقصان پہنچا، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے گاڑیوں کا رخ متبادل راستوں کی طرف موڑ دیا۔




