تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے اسرائیل کے خلاف اپنے حالیہ یکے بعد دیگرے کیے جانے والے فوجی آپریشنز کو فی الحال ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے ‘فارس نیوز’ نے عسکری حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ایران نے لبنان کے مظلوم عوام کی حمایت میں اسرائیل کو دردناک جواب دینے کے بعد اپنی کارروائیاں مکمل کر لی ہیں، تاہم عسکری کمانڈ نے دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر دوبارہ فضائی حملے شروع کیے تو اسے اس سے بھی زیادہ سخت اور تباہ کن جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دستیاب عسکری ذرائع کے مطابق یہ اہم ترین پیش رفت اتوار اور پیر کی درمیانی شب دونوں ممالک کے درمیان شدید میزائل داغے جانے اور فضائی جھڑپوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے زیرِ اثر کام کرنے والے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرز نے ایک پریس ریلیز میں واضح کیا ہے کہ ایران کی یہ کارروائی لبنان کے دارالحکومت بیروت اور جنوبی علاقوں پر اسرائیل کی مسلسل بمباری اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا براہِ راست ردِعمل تھی۔ تہران کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اپریل میں طے پانے والے نازک معاہدے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے لبنان میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ایران کو دفاعی محاذ کھولنا پڑا۔
اگرچہ خطے میں حالیہ کشیدگی کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اپریل کے مہینے میں امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی ثالثی میں ایک عارضی جنگ بندی قائم ہوئی تھی، لیکن حالیہ دنوں میں اسرائیل کی جانب سے لبنان کے جنوبی اضلاع اور بیروت کے رہائشی علاقوں پر لگاتار ساڑھے تین ہزار سے زائد فضائی حملے کیے گئے، جس سے امن کی تمام کوششیں سبوتاژ ہو گئیں۔ لبنانی وزیرِ اعظم کے مطابق ان اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں متعدد تاریخی مقامات اور رہائشی بستیاں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں، جس نے ایران اور خطے کی دیگر اسلامی مزاحمتی قوتوں کو اسرائیل کے خلاف براہِ راست کارروائی کرنے پر مجبور کیا۔
ایرانی مسلح افواج کے اس اعلان کے بعد اب عالمی سطح پر مخلوط ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس اعلان سے خطے میں جاری کشیدگی کی شدت میں عارضی کمی آ سکتی ہے، لیکن دوسری جانب خلیج میں بحری ناکہ بندی اور خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خطرہ بدستور برقرار ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈیوں اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ بھارت سمیت کئی ممالک نے پہلے ہی اپنے شہریوں کو ایران اور متاثرہ خطوں سے فوری انخلا کی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔
اب سب کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ اسرائیل اس جنگ بندی اور ایرانی انتباہ پر کیا ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ مبصرین کے مطابق امریکی انتظامیہ اور نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں فریقین کو فوری طور پر مستقل میز پر لانے کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں، تاہم اگر تل ابیب نے لبنان کے خلاف اپنی جارحیت بند نہ کی تو پورا مشرقِ وسطیٰ ایک ایسی ہمہ گیر جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جس کے اثرات عالمی امن کے لیے انتہائی بھیانک ثابت ہوں گے۔




