مغربی بنگال میں حکومت بنتے ہی مدارس کا جامع سروے شروع، تسلیم شدہ اور نجی اداروں کی تفصیلی رپورٹ طلب، اقلیتی برادری میں تشویش

مغربی بنگال میں نئی حکومت کے قیام کے فوراً بعد ہی اقلیتی تعلیمی اداروں کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور حساس پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ریاستی حکومت نے ایک بڑا انتظامی فیصلہ لیتے ہوئے ریاست بھر میں قائم تمام مدارس کا جامع اور تفصیلی سروے شروع کرنے کا باضابطہ حکم جاری کیا ہے۔ محکمۂ اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم کی جانب سے 5 جون 2026 کو جاری کردہ سرکاری ہدایت نامے کے مطابق، تمام اضلاع کے مجسٹریٹوں (DMs) کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اپنے دائرۂ اختیار میں آنے والے تمام مدارس کی موجودہ حالت، بنیادی ڈھانچے، تعلیمی سرگرمیوں، فنڈنگ کے ذرائع اور طلبہ کی ساخت سے متعلق تفصیلی معلومات جمع کریں۔ اس ہنگامی سروے کو مکمل کرنے کے لیے 5 جولائی 2026 کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے، جس کے بعد تمام اضلاع کی جامع رپورٹ ریاستی ہیڈ کوارٹر ‘نبنّا’ میں پیش کرنی ہوگی۔

حکومتی احکامات کے مطابق، یہ سروے ریاست کے تمام بلاکس اور بلدیاتی (میونسپل) علاقوں میں بیک وقت انجام دیا جائے گا۔ اس مہم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں صرف سرکاری امداد یافتہ یا الحاق شدہ مدارس ہی نہیں، بلکہ ہر قسم کے نجی، غیر تسلیم شدہ، آزاد، اور مقامی مسلم کمیونٹی کی جانب سے چلائے جانے والے چھوٹے بڑے مدارس کو بھی لازمی طور پر شامل کیا گیا ہے۔ سروے کے دوران افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اداروں کی قانونی حیثیت، انتظامی ڈھانچے، کلاس رومز کی تعداد، پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کی سہولیات کا موقع پر معائنہ کریں۔ مزید برآں، مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کے سماجی و تعلیمی پروفائل کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان اداروں میں کس پس منظر کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ عمل بنیادی طور پر انتظامی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد ریاست میں مدرسہ تعلیم سے متعلق ایک قابلِ اعتماد اور شفاف ڈیٹا بیس تیار کرنا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس ڈیٹا کی مدد سے مستقبل میں بچوں کی فلاح و بہبود، تعلیمی ریکارڈ کی نگہداشت اور تعلیمی منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔ تاہم، آرڈر میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس معلومات کو کسی بھی قسم کی بے ضابطگی، مشکوک فنڈنگ یا غیر قانونی سرگرمی کی نشاندہی اور مناسب اصلاحی اقدامات کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب، اقلیتی حلقوں اور مسلم تنظیموں میں اس اچانک سروے کو لے کر شدید تشویش اور بے چینی پائی جا رہی ہے، کیونکہ ملک کی دیگر ریاستوں میں اس طرح کے اقدامات کے بعد مدارس کو نشانہ بنائے جانے کی مثالیں موجود ہیں۔

اس بڑھتی ہوئی تشویش اور خوف کے ماحول کو دیکھتے ہوئے محکمۂ اقلیتی امور نے اپنے ہدایت نامے میں مسلم اداروں اور طلبہ کو دلاسہ دینے کی کوشش بھی کی ہے۔ حکومت کی جانب سے تحریری یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ یہ سروے صرف معلومات جمع کرنے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے اور اس کی بنیاد پر کسی بھی مدرسے کے خلاف فوری طور پر کوئی تعزیری یا قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، نہ ہی کسی ادارے کو بند کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ تعلیمی سیشن کے دوران کسی بھی طالب علم کو خارج نہیں کیا جائے گا اور تمام مدارس کو بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی معمول کی تدریسی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔

سیاسی اور سماجی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مغربی بنگال میں سیاسی تبدیلی کے فوراً بعد مدارس کو اس طرح ترجیحی بنیادوں پر اسکرٹنی کے دائرے میں لانا اقلیتی برادری کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا سکتا ہے۔ مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگرچہ تعلیم میں اصلاحات اور ڈیٹا اکٹھا کرنا حکومت کا حق ہے، لیکن نجی اور غیر امداد یافتہ مذہبی اداروں کی اس سطح پر تفتیش کرنا شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔ اب تمام نظریں 5 جولائی پر ٹکی ہیں جب یہ ڈیٹا نبنّا پہنچے گا، اور اس کے بعد ہی حکومت کے حقیقی عزائم اور مدارس کے مستقبل کی سمت واضح ہو سکے گی۔

شیئر کریں۔