مغربی بنگال کی سیاست میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اندرونی معاملات اور مسلم قیادت کو لے کر میڈیا میں چل رہی قیاس آرائیوں پر بہرام پور لوک سبھا حلقہ سے رکن پارلیمنٹ اور سابق اسٹار کرکٹر یوسف پٹھان نے اتوار سات جون کو ایک وضاحتی ویڈیو جاری کر کے تمام افواہوں پر فل اسٹاپ لگا دیا ہے۔ یوسف پٹھان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پارٹی سپریمو اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی یا ترنمول کانگریس کے کسی بھی دوسرے اعلیٰ رہنما نے ان سے رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے کبھی نہیں کہا۔ سوشل میڈیا اور مختلف نیوز چینلز پر چلنے والی یہ خبریں مکمل طور پر گمراہ کن، جھوٹی اور بے بنیاد ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دستیاب رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے بنگال اور قومی میڈیا کے ایک حلقے میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی خود بہرام پور لوک سبھا سیٹ سے پارلیمانی انتخاب لڑنے کی خواہش مند ہیں اور اسی مقصد کے لیے یوسف پٹھان پر سیٹ خالی کرنے اور استعفیٰ دینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ان خبروں کے وائرل ہونے کے بعد پیدا ہونے والی تشویش کو دور کرنے کے لیے یوسف پٹھان نے خود سامنے آ کر سچائی بیان کی۔ انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں عوام اور اپنے حامیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اہم بات سب کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں کیونکہ گزشتہ کئی دنوں سے ایک من گھڑت خبر کو مسلسل ہوا دی جا رہی ہے کہ ممتا بنرجی نے ان سے استعفیٰ طلب کیا ہے تاکہ وہ وہاں سے ضمنی انتخاب لڑ سکیں۔
سابق کرکٹر اور موجودہ رکن پارلیمنٹ نے میڈیا کے اس رویے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا کہ کسی بھی قسم کی سرکاری تصدیق یا سرکاری بیان کے بغیر اتنے بڑے پیمانے پر ایک جھوٹی خبر پر بحث کی جا رہی ہے۔ انہوں نے صاف کیا کہ پارٹی کی حالیہ میٹنگز کے دوران بھی ممتا بنرجی نے ان سے ایسا کوئی تذکرہ نہیں کیا اور نہ ہی انہوں نے پارٹی کے کسی دوسرے لیڈر یا پیغام رساں کو یہ بات ان تک پہنچانے کی ذمہ داری دی۔ یوسف پٹھان نے عوام کو یقین دلایا کہ وہ اپنے حلقہ انتخاب کے لوگوں کی خدمت کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں اور ترنمول کانگریس کے اندر ان کے مقام کو لے کر چلنے والی تمام باتیں محض سیاسی پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔
اس پورے تنازع میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سوربھ گانگولی کا نام بھی گھسیٹا گیا تھا جس پر انہوں نے بھی سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ایک روز قبل چھ جون کو تمام میڈیا اداروں کے لیے ایک وضاحتی بیان جاری کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق میڈیا کی بعض رپورٹس میں یہ مضحکہ خیز دعویٰ کیا گیا تھا کہ سوربھ گانگولی نے ممتا بنرجی کی طرف سے یوسف پٹھان سے رابطہ کیا تھا اور ان تک یہ پیغام پہنچایا تھا کہ وہ بہرام پور کی سیٹ چھوڑ دیں، جسے یوسف پٹھان نے مبینہ طور پر قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ گانگولی نے نیوز ایجنسی آئی اے این ایس کو دیے گئے اپنے بیان میں ان تمام الزامات کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے جھوٹ کا پلندہ قرار دیا تھا۔
سوربھ گانگولی نے دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ ان کا کسی بھی سطح پر متعلقہ افراد کے درمیان سیاسی معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی وزیر اعلیٰ نے انہیں کبھی ایسا کوئی کام سونپا تھا۔ یوسف پٹھان کے تازہ ترین ویڈیو بیان اور سوربھ گانگولی کی وضاحت نے اب ان تمام طاقتوں کے ارادوں کو ناکام بنا دیا ہے جو اس حساس معاملے کو اچھال کر ٹی ایم سی کی مسلم قیادت اور اعلیٰ کمان کے درمیان اختلافات کی خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یوسف پٹھان کا یہ فوری اور واضح ردعمل یہ ثابت کرتا ہے کہ مسلم اقلیتی چہروں کو نشانہ بنانے والی میڈیا مہمات کا مقابلہ اب حقائق کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔




