کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بنگلورو میں ٹریفک جام سے عوام کو بچانے کے لیے اپنا ‘زیرو ٹریفک’ پروٹوکول چھوڑ کر عام مسافروں کی طرح میٹرو ٹرین میں سفر کیا۔ یہ اقدام پچھلے ہفتے گورنر کے قافلے کی وجہ سے ایک حاملہ خاتون کے ہسپتال جانے میں تاخیر پر ہونے والے شدید عوامی احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے۔
بنگلورو سے ایک اہم اور منفرد سیاسی و سماجی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اتوار کے روز عام شہریوں کو ٹریفک کی ہلاکت خیز لہر اور زحمت سے بچانے کے لیے اپنے خصوصی وی آئی پی پروٹوکول یعنی ‘زیرو ٹریفک’ انتظامات کا استعمال کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے ودھان سودھا سے سلک انسٹی ٹیوٹ تک کا سفر عام شہریوں کی طرح ‘نمّہ میٹرو’ (بنگلورو میٹرو) کے ذریعے طے کیا۔ وزیر اعلیٰ کے اس اقدام کو شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک مسائل اور حالیہ عوامی احتجاج کے تناظر میں ایک بڑا اور مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
دستیاب رپورٹ کے مطابق ڈی کے شیوکمار وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ اپنے آبائی حلقے کاناکاپورہ کا دورہ کر رہے تھے۔ وہ وہاں کے عوام سے ملاقات کرنے اور ان کی حمایت پر شکریہ ادا کرنے کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ عام طور پر کسی بھی وزیر اعلیٰ کی نقل و حرکت کے لیے پورے روٹ پر ٹریفک کو روک کر ‘زیرو ٹریفک’ زون بنایا جاتا ہے۔ تاہم وزیر اعلیٰ کے دفتر (CMO) کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں واضح کیا گیا کہ سدا شیو نگر میں واقع ان کی رہائش گاہ سے لے کر کاناکاپورہ روڈ تک اگر زیرو ٹریفک کا انتظام کیا جاتا تو اتوار کے دن ہزاروں عام شہریوں اور گاڑیوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوتی۔ اسی عوامی زحمت کا ادراک کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے سڑک کے بجائے میٹرو سے سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔
سفر کے دوران وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے میٹرو اسٹیشن اور ٹرین کے اندر عام مسافروں سے انتہائی خوشگوار ماحول میں ملاقات کی اور ان کے ساتھ گفتگو بھی کی۔ انہوں نے میٹرو میں سفر کرنے والے شہریوں سے ان کے مسائل دریافت کیے اور ان کی خیر عافیت معلوم کی۔ کاناکاپورہ مین روڈ پر واقع آخری میٹرو اسٹیشن پر اترنے کے بعد وہ وہاں سے سڑک کے راستے اپنے آگے کے سفر پر روانہ ہوئے۔ اس موقع پر میٹرو کرایوں کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت بنگلورو میٹرو کے کرایوں کا تفصیلی مطالعہ کرے گی تاکہ اسے مزید عوامی اور سستا بنایا جا سکے۔
اس پورے معاملے کا ایک اہم پس منظر پچھلے ہفتے پیش آنے والا وہ واقعہ ہے جس نے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔ ریاست کے گورنر تھاور چند گہلوت کے قافلے کو گزرنے کے لیے ونڈ ٹنل جنکشن پر ٹریفک کو مکمل طور پر روک دیا گیا تھا، جہاں پہلے ہی انڈر پاس کی تعمیر کا کام چل رہا ہے۔ اس شدید جام میں پھنسے ایک شہری نے سڑک پر بیٹھ کر احتجاج شروع کر دیا تھا۔ اس بے بس شخص کا کہنا تھا کہ اس کی بیوی حاملہ ہے اور وہ اسے ہسپتال لے جا رہا ہے لیکن وی آئی پی موومنٹ کی وجہ سے اسے روکا گیا۔ اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بنگلورو کے خستہ حال بنیادی ڈھانچے اور وی وی آئی پی کلچر کے خلاف عوام کا غصہ کھل کر سامنے آ گیا تھا۔
عوامی ردعمل اور سوشل میڈیا پر ہونے والی شدید تنقید کے بعد حکومت دباؤ میں تھی اور خود نئے وزیر داخلہ پریانک کھارگے نے جمعہ کے روز آئی پی ایس افسران کے ساتھ اپنی پہلی ہی میٹنگ میں اس حساس مسئلے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا تھا۔ وزیر داخلہ نے پولیس حکام کو ہدایت دی تھی کہ وہ وی آئی پی موومنٹ کے لیے متبادل اور جدید حل تلاش کریں، جیسے کہ سگنلز کو آپس میں مربوط (synchronise) کرنا تاکہ کسی بھی صورت میں عام ٹریفک کو مکمل طور پر بلاک نہ کیا جائے اور ہسپتال جانے والی ایمبولینسز یا ہنگامی گاڑیوں کے لیے راستہ ہمیشہ کھلا رہے۔ وزیر اعلیٰ کا تازہ ترین میٹرو سفر اسی حکومتی پالیسی اور عوامی جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔




