مہنگائی کا نیا جھٹکا، گھریلو رسوئی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ،اپوزیشن کی شدید تنقید

سرکاری تیل کمپنیوں کی جانب سے 14.2 کلوگرام والے گھریلو ایل پی جی گیس سلنڈروں کی قیمتوں میں 29 روپے کا تازہ اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے ساتھ ہی دارالحکومت دہلی میں گیس سلنڈر کی قیمت 913 روپے سے بڑھ کر 942 روپے ہو گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 7 جون سے ہو گیا ہے جس نے مہنگائی کی ماری عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

گیس سلنڈر کی قیمتوں میں اس نئے اضافے کے بعد ملک کا سیاسی درجہ حرارت بھی بڑھ گیا ہے۔ مرکزی اپوزیشن پارٹی کانگریس نے مودی حکومت کو سخت ہدف تنقید بناتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس نے لکھا ہے کہ مہنگائی مین مودی کا چابک ایک بار پھر چلا ہے اور اب گھریلو سلنڈر مہنگا کر دیا گیا ہے۔ پارٹی نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت کا ایجنڈا بالکل صاف ہے جس کے تحت عوام سے وصولی کی جا رہی ہے اور سرمایہ دار دوستوں کی تجوریاں بھری جا رہی ہیں۔

کانگریس کے ساتھ ساتھ اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے بھی بی جے پی حکومت پر زبانی حملہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایکس ہینڈل پر عوام کی پریشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ روٹی کے مہنگے ہونے سے تھالی روٹھ گئی ہے اور اب بھارتیہ جنتا پارٹی سے عوام کی ہر آس ٹوٹ چکی ہے۔ اپوزیشن کے ان بیانات نے مہنگائی کے مسئلہ کو ایک بار پھر قومی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔

یہ حالیہ دنوں میں عوام کی جیب پر پڑنے والا پہلا بوجھ نہیں ہے۔ اس سے قبل یکم جون کو تیل کمپنیوں نے 19 کلوگرام والے کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں بھی 42 روپے کا اضافہ کیا تھا۔ صرف رسوئی گیس ہی نہیں بلکہ ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گزشتہ دنوں دہلی اور قومی راجدھانی خطہ میں کمپریسڈ نیچرل گیس یعنی سی این جی کی قیمتوں میں بھی فی کلوگرام دو روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ پندرہ مئی کے بعد سے سی این جی کی قیمتوں میں چار مختلف ترامیم کے ذریعے مجموعی طور پر چھ روپے فی کلو کا اضافہ ہو چکا ہے۔

گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں اس تسلسل کے ساتھ ہونے والے اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اس کے براہ راست اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں آنے والے وقت میں اس مدعے کو مزید شدت کے ساتھ اٹھائیں گی اور عوامی سطح پر حکومت کے خلاف احتجاج بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے فی الحال اس اضافے کے دفاع میں کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے لیکن عوام کو فوری ریلیف ملنے کے آثار فی الحال کم ہی دکھائی دے رہے ہیں۔

شیئر کریں۔