معروف ماہر تعلیم اور کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے مالک فیصل خان، جو ملک بھر میں خان سر کے نام سے مشہور ہیں، پٹنہ سول کورٹ میں خودسپردگی نہیں کریں گے۔ ان کی قانونی ٹیم کے رکن اور وکیل اروند کمار مہور نے ہفتے کے روز اس بات کی باضابطہ تصدیق کی ہے کہ ان کے مؤکل کا سرنڈر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، بلکہ اب قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی جائے گی۔
خان سر کے وکیل نے واضح کیا کہ ہفتے کے روز عدالت میں پیشگی ضمانت کی درخواست دائر کرنے کا وقت ختم ہو چکا تھا، اس لیے اب پیر کے روز باقاعدہ طور پر عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ اس قانونی پیش رفت نے ان تمام افواہوں کو ختم کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ خان سر گرفتاری سے بچنے کے لیے عدالت کے سامنے خود کو قانون کے حوالے کر سکتے ہیں۔ اب ان کی قانونی ٹیم کی تمام تر توجہ عدالت سے عبوری راحت حاصل کرنے پر مرکوز ہے۔
یہ پورا تنازعہ دو جون کو پٹنہ میں خان سر کے کوچنگ سینٹر پر ہونے والے ایک پرتشدد حملے کے بعد شروع ہوا تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی واقعے کی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتعل افراد کا ایک ہجوم کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے باہر موجود سیکیورٹی گارڈ پر حملہ آور ہے، جبکہ پتھراؤ کیا جا رہا ہے اور پوسٹرز پھاڑے جا رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر اس واقعے میں فائرنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، لیکن پٹنہ پولیس نے اپنی تفتیش کے بعد فائرنگ کے دعووں کی سختی سے تردید کی تھی۔
اس واقعے کی تحقیقات کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خان سر کے دو ذاتی محافظوں کو پہلے ہی گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔ واقعے کے فوری بعد پولیس کی جانب سے خود خان سر کو بھی پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا تھا تاکہ ہنگامہ آرائی کے اسباب اور دیگر حقائق تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ محافظوں کی گرفتاری کے بعد سے ہی خان سر پر قانونی دباؤ مسلسل بڑھ رہا تھا۔
پٹنہ کا یہ علاقہ تعلیمی اداروں کا مرکز مانا جاتا ہے اور اس واقعے نے طلباء اور کوچنگ سینٹرز کے مالکان میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اب تمام تر نظریں پیر کے روز ہونے والی عدالتی کارروائی پر مرکوز ہیں، جہاں یہ فیصلہ ہوگا کہ خان سر کو ضمانت ملتی ہے یا ان کی قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ پولیس کی جانب سے بھی اس ہائی پروفائل کیس کی باریک بینی سے تفتیش جاری ہے۔




