کانگریس نے سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کی جانب سے آن اسکرین مارکنگ سسٹم میں ہونے والی سنگین بے ضابطگیوں پر مرکزی حکومت اور وزارت تعلیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا اب تک عہدے پر برقرار رہنا محض اقتدار سے چپکے رہنے کی بے شرمی کا مظہر ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنا تفصیلی ردعمل دیتے ہوئے جے رام رمیش نے انکشاف کیا کہ وزیر تعلیم کی الماری میں چھپے ہوئے کرپشن کے حقائق اب تیزی سے باہر آ رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کوئیمپٹ نامی کمپنی نے سی بی ایس ای کا ٹینڈر حاصل کرنے کے لیے سائبر سیکیورٹی سے متعلق دو جعلی سرٹیفکیٹ جمع کروائے تھے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ دونوں سرٹیفکیٹ کسی اور صارف کے تھے، جن میں سے ایک کی میعاد دو سال قبل ختم ہو چکی تھی، جبکہ دوسرے کا آڈٹ اصل نظام کے بجائے محض ایک عارضی ایپلی کیشن پر کیا گیا تھا۔
اس معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ سی بی ایس ای نے اس کھلے دھوکے کو بے نقاب کرنے اور کمپنی کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اسے بڑھی ہوئی شرحوں پر اہم تعلیمی ٹھیکہ دے دیا۔ فروری دو ہزار پچیس میں جب کچھ نوجوان ایتھیکل ہیکرز نے اس سسٹم کی سائبر سیکیورٹی کی خامیوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا، تو بورڈ نے طویل عرصے تک ان خامیوں کو ماننے سے انکار کیا۔ بالآخر جب حقائق چھپانا ناممکن ہو گیا تو سی بی ایس ای کو تسلیم کرنا پڑا کہ کوئیمپٹ کا پورٹل مکمل طور پر غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ اب بورڈ نے نظر ثانی کے عمل کے لیے اس پلیٹ فارم کا استعمال بند کر دیا ہے اور مجبوراََ اپنی ایک الگ ویب سائٹ تیار کی ہے۔
اس مجرمانہ غفلت اور تکنیکی خامیوں کا براہ راست خمیازہ ملک بھر کے لاکھوں طلباء اور ان کے والدین کو بھگتنا پڑا ہے، جو امتحانات کے نتائج اور مارکنگ سسٹم کی غیر شفافیت کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس واقعے نے ملک کے سب سے بڑے تعلیمی بورڈ کی ساکھ پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور حکومتی ڈیجیٹل سیکیورٹی کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ طلباء کے مستقبل کے ساتھ ہونے والے اس سنگین کھلواڑ نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔
سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے اب اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ اپوزیشن مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے کہ ٹینڈر کے اس پورے عمل اور اس میں ملوث اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ تعلیمی نظام کو مستقبل میں ایسے گھپلوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
جے رام رمیش نے اپنے بیان کے اختتام پر وزیر تعلیم کو ایک مغرور اور نااہل شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسی وزارت چلا رہے ہیں جو اندر سے پوری طرح کھوکھلی اور کمپرومائزڈ ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزارت تعلیم نے امتحانات اور کاپیوں کی جانچ کے عمل میں ایمانداری کا مظاہرہ کیا ہوتا تو آج لاکھوں طلباء اور ان کے اہل خانہ اس سنگین تعلیمی بحران اور اذیت سے محفوظ رہ سکتے تھے۔




