کانگریس پارٹی نے ‘دی گریٹ نکوبار پروجیکٹ’ کے خلاف اپنی مہم کو مزید تیز کر دیا ہے اور اس منصوبے کو ماحولیات اور مقامی قبائل کے لیے شدید خطرہ قرار دیا ہے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ جزائر کی قدرتی وراثت کو تباہ کرنے والا یہ وسیع اور متنازع منصوبہ محض وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی سرمایہ کار اڈانی کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آل انڈیا آدیواسی کانگریس کے صدر وکرانت بھوریا نے اپنے ایک تفصیلی ویڈیو پیغام میں مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں سے قومی سلامتی کے پیش نظر آئی این ایس باز کو وسعت دینے کا مطالبہ زیر التوا تھا جسے حکومت نے منظور نہیں کیا، لیکن دوسری جانب اڈانی گروپ کو اسی حساس علاقے میں بندرگاہ، ٹاؤن شپ، کسینو اور شاپنگ مالز تعمیر کرنے کی فوری اجازت دے دی گئی۔ کانگریس نے اس دوہرے معیار پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
اس منصوبے کے آبادیاتی اور ماحولیاتی اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھوریا نے انکشاف کیا کہ گریٹ نکوبار کی موجودہ آبادی محض آٹھ ہزار نفوس پر مشتمل ہے، لیکن اس نئے پروجیکٹ کے تحت یہاں پانچ لاکھ سے زائد افراد کو بسانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ انہوں نے حکام سے استفسار کیا کہ اتنی بڑی تعداد میں بیرونی افراد کی آمد سے قومی سلامتی اور مقامی آبادیاتی توازن پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے علاوہ، نکوبار زلزلہ کے انتہائی حساس زون میں واقع ہے، جس کی وجہ سے اتنی بڑی آبادی کو وہاں بسانا انسانی جانوں کے لیے ایک بہت بڑا اور غیر ضروری خطرہ بن سکتا ہے۔
اس پروجیکٹ کا سب سے افسوسناک پہلو انسانی حقوق اور مقامی قبائل کی بقا سے جڑا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق جزیرے میں مقیم انتہائی قدیم ‘شومپین’ قبیلے کے محض دو سو افراد پوری دنیا میں باقی بچے ہیں۔ آدیواسی کانگریس کے رہنما نے انتباہ دیا ہے کہ ڈیڑھ کروڑ درختوں کی بے دریغ کٹائی اور وسیع تعمیراتی سرگرمیوں سے اس قبیلے کا وجود ہمیشہ کے لیے مٹ جانے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے اس ماڈل کو کھلی آمریت قرار دیتے ہوئے عوام سے اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل کی ہے۔
کانگریس کے سینئر رہنما رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بھی اس معاملے پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے منصوبے کی شفافیت پر تنقید کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اس پروجیکٹ کی آڑ میں ہزاروں درختوں کی کٹائی کر کے جنگلاتی وسائل کو مبینہ طور پر فروخت کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والے اربوں ڈالرز سے کیسینو، ہوٹل اور رئیل اسٹیٹ کا کاروبار چمکایا جائے گا۔ راہل گاندھی نے قبائلی برادریوں کی زمینیں چھینے جانے کی بھی شدید مذمت کی ہے۔
پارٹی قیادت نے نشاندہی کی ہے کہ اس منصوبے کے لیے مختص کیا گیا 161 مربع کلومیٹر کا علاقہ دارالحکومت نئی دہلی سے چار گنا بڑا ہے، اور یہ ملک کے سب سے زیادہ محفوظ ماحولیاتی خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس ترقیاتی منصوبے کے نام پر مقامی آبادی کو بے دخل کرنے کی شکایات بڑھ رہی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن کے اس سخت موقف، قبائلی حقوق کی پامالی اور ماحولیاتی کارکنوں کے تحفظات کے بعد مرکزی حکومت اس بڑے منصوبے پر اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی لاتی ہے یا نہیں۔




