آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کی جانب سے کرناٹک قانون ساز کونسل (لیجسلیٹو کونسل) کی اہم نشستوں کے لیے اپنے باضابطہ امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا ہے، لیکن اس فہرست کے منظرِ عام پر آتے ہی ریاست کے سیاسی اور سماجی حلقوں بالخصوص اقلیتی برادری میں شدید مایوسی اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کانگریس کے قومی صدر ملیکارجن کھرگے کی حتمی منظوری کے بعد جاری کی گئی اس فہرست میں بی کے ہری پرساد، تیپّنپا کامکنور، پی وی موہن اور شیوانّا ملولی کو پارٹی کا امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال کی جانب سے جاری کردہ پریس اعلامیہ کے مطابق یہ چاروں رہنما اسمبلی اراکین (ایم ایل ایز) کے ذریعے منتخب ہونے والی قانون ساز کونسل کی نشستوں کے لیے کانگریس کی نمائندگی کریں گے۔ تاہم اس پوری فہرست میں کسی بھی مسلم رہنما کا نام شامل نہ ہونا اب ایک بڑے سیاسی تنازع کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق امیدواروں کے نام سامنے آنے کے فوراً بعد ریاست کی متعدد مسلم تنظیموں، علما کونسل اور دانشوروں نے کانگریس قیادت کے اس فیصلے پر سخت افسوس اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کرناٹک کی سیاست میں مسلم برادری کو روایتی طور پر کانگریس کا سب سے مضبوط اور وفادار حمایتی طبقہ تصور کیا جاتا ہے، جس نے حالیہ اسمبلی انتخابات میں بھی یکطرفہ طور پر کانگریس کے حق میں ووٹ دے کر اسے اقتدار تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ایسے میں قانون ساز کونسل جیسے باوقار اور فیصلہ ساز ادارے کے لیے بنائی گئی فہرست سے مسلمانوں کو مکمل طور پر غائب کر دینا اقلیتی حقوق اور سیاسی شراکت داری کے اصولوں کے منافی ہے۔
اقلیتی حلقوں کی جانب سے خاص طور پر اس بات کی نشاندہی کی جا رہی ہے کہ سابق رکن قانون ساز کونسل ناصر احمد کی مدتِ کار ختم ہونے کے باعث ایک اہم نشست خالی ہوئی تھی، جس پر مسلم برادری کو یہ قوی امید اور توقع تھی کہ کانگریس قیادت اس روایتی نشست پر کسی مسلم چہرے کو ہی موقع دے کر برادری کی نمائندگی کو برقرار رکھے گی۔ تاہم ناصر احمد کی خالی کردہ جگہ پر بھی کسی مسلم رہنما کو ایڈجسٹ نہیں کیا گیا، جس سے یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ پارٹی اقلیتوں کے سیاسی وجود کو پسِ پشت ڈال رہی ہے۔ مسلم سماجی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اگر جمہوریت میں مسلم برادری کی سیاسی قیادت کو اسی طرح منظم طریقے سے کمزور کیا گیا، تو ایوانوں میں ان کے مسائل، تعلیمی و معاشی پسماندگی اور مذہبی آزادی جیسے حساس معاملات پر آواز اٹھانے والا کوئی نہیں بچے گا۔
انسانی حقوق اور سیاسی مساوات کے اصولوں کے تحت یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ کانگریس اپنی اس مبینہ لاپرواہی پر مسلم کمیونٹی کے سامنے واضح وضاحت پیش کرے۔ دوسری جانب کانگریس کے بعض مقامی رہنماؤں کا دفاعی انداز میں کہنا ہے کہ امیدواروں کے انتخاب میں مختلف علاقائی، سماجی اور اندرونی سیاسی توازن کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے اور پارٹی اپنے دیگر تنظیمی ڈھانچے یا آئندہ کے سیاسی مواقع پر تمام طبقات بالخصوص اقلیتوں کو مناسب اور باوقار نمائندگی دینے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ حکومت کا یہ دعویٰ اقلیتی تنظیموں کو مطمئن کرنے میں ناکام رہا ہے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ وعدوں کے بجائے عملی اقدامات زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
ریاست میں نئی کانگریس حکومت کے قائم ہونے کے بعد سے ہی مسلم برادری کی جانب سے بجٹ مختص کرنے، وقف املاک کے تحفظ اور کابینہ میں اہم قلمدان دینے کے حوالے سے مسلسل مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں قانون ساز کونسل کی فہرست سے مسلمانوں کا اخراج آنے والے دنوں میں سدارامیا اور ڈی کے شیوکمار کی قیادت والی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کانگریس نے اس اندرونی عدم اطمینان کو دور کرنے کے لیے فوری طور پر کوئی تلافی کا اقدام نہ کیا، تو اقلیتی ووٹروں کے اندر پیدا ہونے والی یہ دوری مستقبل کے بلدیاتی اور عام انتخابات میں پارٹی کے روایتی ووٹ بینک کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔




