بنگلہ دیشی مصنفہ اور متنازع شخصیت تسلیمہ نسرین نے ایک بار پھر اسلام اور دینی تعلیمی اداروں کے خلاف زہر افشانی کرتے ہوئے شدید تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ کولکتہ کی بنگلہ اکیڈمی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ہندوستانی تعلیمی نظام، مدرسوں کے وجود اور مسلم برادری کے مذہبی آزادیاں پر سخت حملہ بولا۔ ان کے اس غیر ذمہ دارانہ اور یکطرفہ بیان نے ملک بھر کی اقلیتی بالخصوص مسلم برادری میں شدید بے چینی اور برہمی کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں مختلف سماجی رہنما ان کے اس رویے کو فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تسلیمہ نسرین نے دعویٰ کیا کہ ملک میں جاری بیشتر مدرسے حکومتی نظرداری کے بغیر چل رہے ہیں اور انہوں نے ان تمام دینی اداروں کو جدید اور سیکیولر اسکولوں میں تبدیل کرنے کی وکالت کی۔ انہوں نے بلاشواہد اور زہریلے الزامات عائد کرتے ہوئے دینی مدارس کی تعلیمی و اصلاحی بنیادوں پر سوالات اٹھائے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان تمام مذہبی و تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں پر سخت ترین حکومتی کنٹرول قائم کیا جائے۔ اپنے بیان کے دوران انہوں نے عبادت گاہوں کی تعمیر اور ان کی دیکھ بھال سے متعلق بھی غیر منطقی تحفظات ظاہر کیے، جس سے ان کی قدیم مذہبی بیزاری کھل کر سامنے آ گئی ہے۔
اپنے بیانات کو معقول ثابت کرنے کے لیے تسلیمہ نسرین نے نسوانی حقوق اور سماجی اصلاحات کا سہارا لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ ہر اس مذہبی روایت کی مخالفت کرتی ہیں جو عورتوں کے خلاف ہو۔ انہوں نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر امتحانی بدعنوانیوں کے خلاف جاری حالیہ طلبہ احتجاج کا موازنہ بنگلہ دیش کی تحریکوں سے کرتے ہوئے طلبہ کی جمہوری جدوجہد پر بھی منفی تبصرے کیے۔ اس موقع پر انہوں نے ہندوستان میں یکساں سول کوڈ (UCC) کی پرزور حمایت کا اعادہ کیا اور "ایک ملک، ایک قانون” کے نعرے کے تحت تمام مذہبی برادریوں کے پرسنل لا کو ختم کرنے پر زور دیا۔
سماجی و مذہبی تجزایہ نگاروں کے مطابق تسلیمہ نسرین کا یہ موقف کوئی نیا نہیں ہے، بلکہ وہ طویل عرصے سے اسلام اور مسلمانوں سے جڑے تمام بنیادی اداروں کو نشانہ بناتی رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں مدارس بالخصوص غریب اور پسماندہ طبقات کے بچوں کو مفت تعلیم اور رہائش فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اور چند انفرادی واقعات کو بنیاد بنا کر پورے تعلیمی اور مذہبی نظام کو بدنام کرنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق اور آئینی حقوق کے بھی خلاف ہے۔
جمہوری اور آئینی اقدار کے تحت ہر شہری اور اقلیت کو اپنے مذہبی اور تعلیمی ادارے قائم کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس طرح کے نفرت انگیز اور تعصب پر مبنی بیانات پر کارروائی کرے جو معاشرے میں ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں، تاکہ کسی بھی برادری کو محض اس کے عقیدے یا تعلیمی اداروں کی وجہ سے نشانہ بنانے سے روکا جا سکے۔




