ملک کے نامور تعلیمی مصلح اور لداخ کے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور تعلیمی نظام کی گرتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو الٹی میٹم جاری کیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اگر مرکزی وزیر تعلیم نے 5 جون 2026 تک اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیا تو وہ 6 جون کو نئی دہلی کے تاریخی جنتر منتر پر نوجوانوں کی جانب سے منعقد کیے جانے والے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے میں خود شریک ہوں گے۔ سونم وانگچک نے ملک میں جوابدہی اور تعلیمی اصلاحات کو وقت کی سب سے بڑی ضرورت قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ملک کے نوجوانوں اور طلبہ کی جانب سے شروع کی جانے والی تحریک ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ نے دہلی میں اس احتجاج کا کال دیا ہے، جس کا مقصد امتحانی نظام میں شفافیت لانا اور حالیہ امتحانی ناکامیوں پر حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ہے۔ اس تحریک کے بانی ابھیجیت دپکے نے سونم وانگچک کے اس فیصلے کا پرتپاک استقبال کیا ہے۔ انہوں نے عوامی پلیٹ فارم پر لکھا کہ سونم وانگچک جیسے معتبر انسان کا اس تحریک کا حصہ بننا ملک کے لاکھوں طلبہ اور نوجوانوں کے لیے ایک بڑے اعزاز کی بات ہے اور یہ تحریک اب مزید مضبوط ہو کر ابھرے گی۔
سونم وانگچک نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے تحریک کے منتظمین سے تفصیلی گفتگو کی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ احتجاج خالصتاً ہندوستانی نوجوانوں کی اپنی آواز ہے اور اس کے پیچھے کسی بھی قسم کا کوئی بیرونی اثر و رسوخ یا ایجنڈا شامل نہیں ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے طلبہ اپنے مستقبل کو بچانے اور تعلیمی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔ اگرچہ ملک بھر کے طلبہ حالیہ نیٹ، سی یو ای ٹی اور سی بی ایس ای امتحانات میں سامنے آنے والی خامیوں اور پرچہ لیک کے واقعات کو لے کر برہم ہیں، لیکن وانگچک کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف ایک امتحان نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کی بنیادی اصلاح ہے۔
انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ چار دہائیوں سے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے سرکاری اسکولوں کی حالت بدلنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ حکومت کی ‘نیشنل ایجوکیشن پالیسی’ اور سال 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کا عزم نیت کے لحاظ سے بہترین ہو سکتا ہے، لیکن جب تک اسے زمینی سطح پر دیانتداری کے ساتھ نافذ نہیں کیا جاتا، یہ خواب ادھورا رہے گا۔ دیہی علاقوں کے غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کیے بغیر ملک کی ترقی کا دعویٰ بے معنی ثابت ہوگا۔
سونم وانگچک نے زور دے کر کہا کہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ایک سنگین قومی مسئلہ ہے اور ایک زندہ و خوددار جمہوریت کی یہ روایت ہونی چاہیے کہ جب اتنے بڑے پیمانے پر امتحانی نظام ناکام ہو جائے تو قیادت کو اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اگلے دو دنوں میں کوئی مثبت قدم اٹھائے گی، بصورت دیگر وہ 6 جون کو دہلی پہنچ کر نوجوانوں کے کندھے سے کندھا ملا کر اس احتجاج کو آگے بڑھائیں گے۔ دوسری طرف ابھیجیت دپکے نے بھی بیرون ملک سے ہندوستان واپسی کا اعلان کر دیا ہے تاکہ تعلیمی نظام میں شفافیت لانے کے لیے اس پرامن احتجاج کی قیادت کر سکیں۔




