بھٹکل (فکرخبرنیوز) بھٹکل کے قریب تٹے ہکل کے ساحلی علاقے میں ایک انتہائی دلدوز اور المناک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں ندی اور سمندر کے قریبی سنگم پر سیپیاں جمع کرنے گئے ایک ہی خاندان کے 8 افراد پانی میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ اتوار کے روز پیش آنے والے اس ناگہانی اور لرزہ خیز واقعے کی اطلاع ملتے ہی پورے ساحلی کرناٹک اور بالخصوص بھٹکل کے عوامی و سماجی حلقوں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ خاندان ندی کے کنارے روایتی انداز میں سیپیاں جمع کرنے گیا تھا، جو ساحلی علاقوں میں ایک عام تفریحی سرگرمی سمجھی جاتی ہے۔ یہ اس وقت اچانک ایک بڑے سانحے میں تبدیل ہو گیا جب ندی کے تیز بہاؤ، اور اچانک گہرے پانی کی زد میں آ کر خاندان کے متعدد افراد توازن برقرار نہ رکھ سکے اور تیز دھاروں میں بہنے لگے۔ چیخ و پکار سن کر مقامی ملاح، ماہی گیر فوری طور پر موقعِ واردات پر پہنچ گئے اور انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بڑے پیمانے پر مشترکہ ریسکیو آپریشن شروع کیا۔
مسلسل امدادی کوششوں کے باوجود خاندان کے آٹھوں افراد میں سے کسی کو بھی زندہ بچایا نہیں جا سکا۔ بتایا جاتا ہے کہ جاں بحق ہونے والے متاثرین میں خواتین اور معصوم بچے بھی شامل تھے، جس نے اس حادثے کو مقامی کمیونٹی کے لیے مزید المناک بنا دیا ہے۔ تمام لاشوں کو پانی سے نکال کر فوری طور پر سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ہسپتال کے احاطے میں لواحقین، دوست احباب اور مقامی مکینوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔
اس سنسنی خیز اور افسوسناک حادثے پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کرناٹک کے وزیرِ اعلیٰ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ بھٹکل کے تٹے ہکل ساحل پر ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد کے غرقاب ہونے کی خبر سن کر دل کو شدید تکلیف پہنچی ہے۔ انہوں نے اسے ایک انتہائی بدقسمت اور دردناک واقعہ قرار دیتے ہوئے سوگوار خاندان کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور مرنے والوں کی روح کے سکون کے لیے دعا کی۔ وزیرِ اعلیٰ نے اس موقع پر ایک بڑا فیصلہ لیتے ہوئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریاستی حکومت کی طرف سے مہلوکین کے لواحقین کو فی کس 5 لاکھ روپے مالی امداد (معاوضہ) دینے کا بڑا اعلان کیا ہے۔
اطلاعات ہیں کہ اس حادثے میں کچھ اور افراد کے بھی لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں، جن کے لیے انتظامیہ اور مقامی ملاحوں کی مدد سے سمندر میں ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے اور تلاشی تیز کر دی گئی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ہم سب خدا سے دعا کریں کہ لاپتہ ہونے والے افراد بخیریت زندہ مل جائیں اور اپنے پیاروں سے دوبارہ آ ملیں۔ پولیس اور مقامی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے جائے وقوعہ کا دورہ کر کے حادثے کے پسِ منظر و وجوہات کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں، اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ندیوں اور ساحلوں کے تیز بہاؤ کے دوران پانی میں اترنے سے مکمل گریز کریں۔




