مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والے معاشی حالات کے اثرات اب براہ راست ہندوستان کے عام شہریوں کی جیبوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ہفتے کے روز ملک میں ایک بار پھر پٹرول، ڈیزل اور سی این جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ سرکاری تیل کمپنیوں کی جانب سے جاری کردہ نئے نرخوں کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 87 پیسے فی لیٹر، ڈیزل میں 91 پیسے فی لیٹر اور سی این جی میں ایک روپیہ فی کلو گرام کا اضافہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ دس دنوں کے دوران یہ تیسرا موقع ہے جب ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس نے عوام کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
اس تازہ ترین اضافے کے بعد قومی دارالحکومت دہلی میں پٹرول کی فی لیٹر قیمت 99.51 روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت 92.49 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والے اس مسلسل اضافے نے سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے اور حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے مرکزی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت عالمی بحران کی آڑ میں عوام پر بوجھ ڈال رہی ہے۔
کانگریس پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے آفیشل ہینڈل سے حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے وزیر اعظم کو ہدف بنایا۔ پارٹی نے لکھا کہ حکومت نے گزشتہ نو روز کے اندر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً پانچ روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ موجودہ حکومت صرف تیل کمپنیوں اور سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے جبکہ دنیا بھر کی دیگر حکومتیں اپنے عوام کو معاشی راحت فراہم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ کانگریس نے حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سرمایہ داروں کا فائدہ کرانے کے بجائے حکومت کو عام آدمی کی بھلائی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
اس کے ساتھ ہی کانگریس نے سی این جی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے پر بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کا موقف ہے کہ گزشتہ نو دنوں میں سی این جی چار روپے فی کلو مہنگی ہو چکی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اپنے قریبی دوستوں کو معاشی فائدہ پہنچانے کے لیے عوام کو لوٹ رہی ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا یہ سلسلہ 15 مئی سے شروع ہوا تھا جب قیمتوں میں یکمشت تین روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 19 مئی کو بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 80 پیسے سے زائد کا اضافہ کیا گیا۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اسی رفتار سے بڑھتی رہیں تو ملک میں اشیائے خوردونوش اور ٹرانسپورٹیشن کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے جس سے عام آدمی اور کم آمدنی والے طبقے کا بجٹ مکمل طور پر تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔




