انٹرنیٹ پر تیزی سے مقبول ہونے والی ’کاک روچ جنتا پارٹی‘ کی وائرل ویب سائٹ کو مبینہ طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اس ڈیجیٹل مہم کے بانی ابھیجیت ڈِپکے نے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر آمریت کا الزام عائد کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نوجوانوں کی آن لائن آزادی اظہار رائے پر براہ راست حملہ کر رہی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے ابھیجیت ڈِپکے نے بتایا کہ ویب سائٹ کے آف لائن ہونے سے قبل تقریباً 10 لاکھ افراد اس انوکھی سیاسی مہم کے ممبر بن چکے تھے۔ انہوں نے سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ ان میں سے 6 لاکھ ارکان نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے تھے جس میں نیٹ یو جی پیپر لیک تنازعہ پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس مہم نے نوجوانوں بالخصوص جنریشن زیڈ اور ملینیئلز کے درمیان طنز اور میمز کے ذریعے مقبولیت حاصل کی تھی۔
حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ڈِپکے نے سوال کیا کہ آخر انتظامیہ کاک روچز سے اتنا کیوں ڈر گئی ہے۔ انہوں نے اسے آمرانہ رویہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ہندوستان کے نوجوانوں کی آنکھیں کھل رہی ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ ان کا واحد جرم اپنے لیے ایک بہتر مستقبل کا مطالبہ کرنا تھا جسے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ڈِپکے نے عزم ظاہر کیا کہ وہ ایک نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر کام کر رہے ہیں اور انہیں اتنی آسانی سے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
اس تنازعے نے ایسے وقت میں جنم لیا ہے جب ملک بھر میں نیٹ یو جی امتحان میں مبینہ دھاندلی اور پیپر لیک کے معاملے پر لاکھوں میڈیکل طلباء سراپا احتجاج ہیں۔ کاک روچ جنتا پارٹی نے اس طلباء تحریک کو ایک منفرد اور طنزیہ انداز میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اٹھایا تھا۔ ویب سائٹ بند ہونے سے قبل ڈِپکے نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ ان کا ذاتی اور پارٹی کا آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی ہیک کر لیا گیا ہے، جس کے بعد اس تحریک سے جڑے نوجوانوں میں مزید اشتعال پیدا ہوا ہے۔
اس انوکھی مہم کا آغاز سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت سے منسوب ایک مبینہ تبصرے کے بعد ہوا تھا۔ اگرچہ چیف جسٹس نے بعد میں وضاحت کر دی تھی کہ ان کی بات کو غلط سیاق و سباق میں پیش کیا گیا اور ان کا اشارہ صرف جعلی ڈگریوں کے ذریعے پیشوں میں داخل ہونے والوں کی طرف تھا، لیکن تب تک یہ لفظ انٹرنیٹ پر ایک منظم طنزیہ اور احتجاجی تحریک کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ اب ویب سائٹ کی بندش کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے اور مہم کو مزید تقویت ملنے کا امکان ہے۔




