چین میں کوئلے کی کان میں گیس دھماکہ، 90 افراد ہلاک، ریسکیو آپریشن جاری

چین کے صوبہ شانسی کی ایک کوئلے کی کان میں گیس کے ہولناک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 90 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ جمعہ کے روز صوبے کی چنیوان کاؤنٹی میں واقع لیوشینیو کان میں پیش آیا، جس کے بعد ریسکیو ٹیموں کی جانب سے امدادی کارروائیاں اور کان کے اندر ممکنہ طور پر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق دھماکے کے وقت کان کے اندر 247 مزدور ڈیوٹی پر موجود تھے۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب کاربن مونو آکسائیڈ کا الرٹ جاری کیا گیا تھا اور ابتدائی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ کان کے اندر گیس کی سطح محفوظ حد سے تجاوز کر چکی تھی۔ حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کان کی نگرانی کے ذمہ دار شخص کو گرفتار کر لیا ہے اور واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز میں جائے وقوعہ پر درجنوں ایمبولینسز اور امدادی کارکنوں کو مصروف دیکھا جا سکتا ہے۔

چین میں کوئلے کی کانوں کو دنیا کی خطرناک ترین کانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت سے منافع کمانے کی دوڑ میں اکثر کمپنیاں حفاظتی معیارات کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔ ناقص حفاظتی انتظامات، کمزور ضوابط اور بدعنوانی کی وجہ سے اس سے قبل بھی ایسے کئی حادثات رونما ہو چکے ہیں۔ تاہم گزشتہ ایک دہائی کے دوران رپورٹ ہونے والا یہ سب سے بدترین اور جان لیوا حادثہ ہے۔ صوبہ شانسی چین میں کوئلے کی پیداوار کا سب سے بڑا مرکز ہے جہاں گزشتہ سال ایک ارب ٹن سے زائد کوئلہ نکالا گیا، جو ملک کی مجموعی پیداوار کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتا ہے۔

اس ہولناک سانحے کے بعد چین کے صدر شی جن پنگ نے ملک بھر کے متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے تمام صوبوں اور محکموں پر زور دیا ہے کہ وہ اس حادثے سے سبق سیکھیں اور کام کی جگہوں پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔ چینی صدر کا کہنا تھا کہ کام کی جگہ پر حفاظت کے حوالے سے چوکنا رہنے، خطرات کی نشاندہی اور چھپے ہوئے نقصانات کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سنگین حادثات کی روک تھام کی جا سکے۔ چین دنیا میں کوئلہ پیدا کرنے اور استعمال کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جو عالمی کھپت کا نصف سے زیادہ استعمال کرتا ہے، جس کی وجہ سے کان کنی کی صنعت پر بھاری دباؤ رہتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں ریسکیو اہلکار زیر زمین پھنسے ہوئے ممکنہ افراد تک پہنچنے کی مسلسل کوششیں کر رہے ہیں جبکہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ اس اندوہناک واقعے نے ایک بار پھر صنعتی ترقی کے نام پر مزدوروں کے تحفظ اور کان کنی کے مقامی معیارات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے انتظامیہ کو ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اور موثر کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

شیئر کریں۔