حج 1447ھ: مسجدِ نبوی کے سینئر امام و خطیب شیخ علی بن عبدالرحمن الحذیفی خطبہ عرفہ کے لیے نامزد، حرمین شریفین پریزیڈنسی کا بڑا اعلان

مکہ مکرمہ / مدینہ منورہ (فکروخبر) حرمین شریفین کے امور کی جنرل پریزیڈنسی (The General Presidency for the Affairs of the Two Holy Mosques) نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ مسلم دنیا کی نہایت معتبر، سینئر اور ہر دلعزیز علمی شخصیت، مسجدِ نبوی (مدینہ منورہ) کے امام و خطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر علی بن عبدالرحمن الحذیفی کو حج کے سیزن 1447ھ کے لیے ‘خطبہِ عرفہ’ دینے کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ انتخاب اسلامی دنیا کے اعلیٰ ترین اعزازات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ تاریخی اور عظیم الشان خطبہ 9 ذی الحجہ 1447ھ کو میدانِ عرفات میں واقع تاریخی ‘مسجدِ نمرہ’ سے دیا جائے گا۔ یہ وہی مبارک مقام ہے جہاں آج سے 14 سو سال قبل نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنا تاریخی خطبۂ حجۃ الوداع دیا تھا۔

واضح رہے کہ یومِ عرفہ (Arafah Day) حج کا سب سے اہم رکن اور پورے اسلامی کیلنڈر کے عظیم ترین دنوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ اس دن دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمینِ حج رنگ اور نسل کے فرق کو مٹا کر میدانِ عرفات میں جمع ہوتے ہیں اور اللہ رب العزت کے حضور گریہ و زاری، استغفار اور دعاؤں میں مصروف رہتے ہیں، جو کہ پورے سفرِ حج کی روح اور اصل مغز ہے۔ یومِ عرفہ کا یہ خطبہ دنیا کا سب سے زیادہ دیکھا اور سنا جانے والا مذہبی خطاب ہے، جسے دنیا بھر کے اربوں مسلمان براہِ راست (Live) سماعت کرتے ہیں۔ شیخ علی الحذیفی گزشتہ کئی دہائیوں سے مسجدِ نبوی میں امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور ان کی دھیمی، پرکشش اور رقت آمیز تلاوتِ قرآن کی وجہ سے پوری دنیا کے مسلمان ان سے بے پناہ عقیدت و محبت رکھتے ہیں۔ عالمی سطح پر امتِ مسلمہ نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور توقع ہے کہ اس سال ریکارڈ تعداد میں مسلمان اس خطبے کو لائیو سنیں گے۔

شیئر کریں۔