فلسطین کے محصور محاذ غزہ میں قحط سالی اور شدید انسانی بحران کے شکار لاکھوں شہریوں کے لیے امداد لے کر جانے والے بین الاقوامی بحری کارواں پر اسرائیلی فوج نے دھاوا بول دیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کا راستہ روک کر اس پر سوار 430 عالمی سماجی کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جنہیں اب اسرائیل منتقل کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب حراست میں لیے گئے امدادی کارکنان میں سے 87 افراد نے اپنی غیر قانونی گرفتاری اور اسرائیلی جیلوں میں بند فلسطینی قیدیوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے حراستی مرکز کے اندر ہی غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
موصولہ تفصیلات کے مطابق ‘گلوبل صمود فلوٹیلا’ (Global Sumud Flotilla) نے ایک باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ غزہ کے ساحل سے تقریباً 250 ناٹیکل میل (تقریباً 460 کلومیٹر) دور بین الاقوامی سمندری حدود میں اسرائیلی بحریہ نے ان کے پورے کارواں کو گھیرے میں لے لیا۔ اس امدادی مشن میں شامل تمام 54 کشتیوں اور جہازوں کو زبردستی روک کر دنیا کے 40 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے کم و بیش 428 انسانی حقوق کے رضاکاروں اور نمائندوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ فلوٹیلا سے براہ راست نشر ہونے والی لائیو اسٹریم فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی کمانڈوز نے کاروانی جہازوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے دوران دو کشتیوں پر شدید فائرنگ بھی کی۔ اگرچہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فائرنگ میں کس قسم کا اسلحہ یا گولہ بارود استعمال کیا گیا، تاہم خوش قسمتی سے اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
یہ انسانی امدادی کارواں 14 مئی کو ترکیہ (Turkey) کی بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا، جس کا واحد مقصد طویل عرصے سے اسرائیلی جارحیت اور سخت ترین ناکہ بندی کا سامنا کرنے والے مظلوم فلسطینیوں تک خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان پہنچانا تھا۔ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ زمینی، فضائی اور سمندری پابندیوں کے باعث وہاں کی آبادی اس وقت تاریخ کے بدترین قحط اور طبی وسائل کی قلت سے جوجھ رہی ہے۔ بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ محصور علاقے میں فوری امداد نہ پہنچنے کی صورت میں بڑے پیمانے پر انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے، اسی تناظر میں عالمی برادری کے مقتدر شہریوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس بحری مشن کا آغاز کیا تھا۔
بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے کھلے سمندر اور عالمی پانیوں میں اس طرح کے غیر مسلح اور انسانی ہمدردی کے مشن پر فوجی طاقت کے استعمال کو بحری قزاقی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ماضی میں بھی 2010ء کے دوران اسی طرح کے ایک ترک امدادی جہاز ‘ماوی مرمرہ’ پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 10 عالمی کارکنان جاں بحق ہو گئے تھے، جس کے بعد اسرائیل کو شدید عالمی تنقید اور سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ موجودہ کارروائی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل غزہ تک پہنچنے والی کسی بھی آزاد امدادی کوشش کو روکنے کے لیے بین الاقوامی قوانین کو پسِ پشت ڈالنے پر بضد ہے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ اور مختلف عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زیر حراست تمام ملکی اور غیر ملکی شہریوں کی فوری اور باحفاظت رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ترکیہ اور دیگر متعلقہ ممالک کی حکومتیں بھی اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی ذرائع کا استعمال کر رہی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ فلوٹیلا کے کارکنوں کی جانب سے شروع کی جانے والی بھوک ہڑتال بین الاقوامی سطح پر اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کا سبب بنے گی، اور آنے والے دنوں میں عالمی عدالتوں اور فورمز پر اس غیر قانونی سمندری کارروائی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔




