تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)
مورخہ 16/ مئی جناب عبد الحمید دامودی کی رحلت کے ساتھ بھٹکل کی تاریخ کا ایک روشن باب بند ہوگیا، آپ کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ 1962ء میں بھٹکل میں ایک دینی تعلیمی ادارے کے قیام کے تعلق سے بانیان جامعہ جناب ڈاکٹر علی ملپا اور جناب سعدا محمد جفری پر مبنی وفد جناب ڈی اے محمد اسماعیل وغیرہ بھٹکل کے تاجران و اہل خیر سے مشورے کے لئے ممبئی روانہ ہوا تو آپ جیسے رفقاء کی ایما پر بھٹکل مسلم جماعت ممبئی کا اجلاس جناب الحاج محی الدین منیری کی صدارت میں منعقد ہوا، رواد اجلاس اول 1964ء جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں مندرج اس اجلاس کی تفصیلات نے عبد الحمید دامودی اور آپ شرکاء کا نام زندہ جاوید کردیا ہے، روداد کا اقتباس آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔
"بمبئی میں کیا ہوا:۔۔ایک مشاورتی جلسہ ڈی، اے ابوبکر واسمعیل صاحبان کی رہائش گاہ واقع ابراہیم رحمت اللہ روڈ بمبئی میں 19 شوال 1381ھ مطابق 26 مارچ 1962ء کی شب میں جناب محی الدین صاحب منیری کی صدارت میں منعقد ہوا۔ تاکہ ابھی حال ہی میں دس روز قبل 17 مارچ 1962 ھ مطابق 10 شوال 1381ھ کوابو محل یعنی ڈی، اے ابوبکر واسمعیل صاحبان کے دولت کدہ بھٹکل میں جو عربی دارالعلوم قائم کرنے کا فیصلہ ہوا ہے اس پر بمبئی کے احباب سے مزید گفتگو اور استفسارِ رائے کر لیا جائے چنانچہ اس جلسہ میں صلاح و مشورہ کے بعد مجوزہ دارالعلوم کا نام ”جامعہ اسلامیہ“ رکھ دیا گیا ۔۔۔اس سے بھی بڑھ کر دینی تعلیم کی ضرورت اور اس سے گہری دلچسپی کا اندازہ اس سے کیجئے کہ جناب ڈی۔ اے. ابوبکر صاحب اور ڈی۔ اے. اسماعیل صاحب سے تعلق رکھنے والے بچوں (عبدالحمید دامودی،اسماعیل دامودی، محمد سعید محی الدین دامودی، محمد سعید حسین دامودی) نے مل کر جو گھر ہی کے فرم میں کام کرتے اور دو تین روز سے دینی تعلیم کے چرچے چلتے پھرتے سنتے تھے، دینی جوش وجذبے سے متاثر ہو کر اپنی طرف سے بالکل اپنی جیب خاص سے مبلغ ایک ہزار روپیہ دینے کا اعلان کیا اور بلا کسی ترغیب وفرمائش کے خود بخود رقم پیش کی۔ اب یہی بچے فرم "ابوکو ٹریڈرس” کے مالک ہیں۔ ہم ان ہونہار بچوں کی جنہیں اب بچے کہتے زیادہ اچھا نہیں معلوم ہوتا دینی دلچسپی کی قدر کرتے ہوئے دنیا و آخرت کی بھلائیوں کیلئے دعا کرتے ہیں۔(روداد اجلاس اول 1962ھ ۔ ص : 45)۔
واضح رہے کہ 1960ء میں بھارت میں دس گرام سونے کی قیمت (63 ) روپئے کی آس پاس ہوا کرتا تھا۔
عبد الحمید دامودی کی پیدائش سنہ 1930ء میں خلیفہ محلہ کے اسی مکان میں ہوئی تھی جوکبھی عظیم محسن قوم جناب اسماعیل حسن صدیق (آئی یس صدیق) بانی مجلس اصلاح وتنظیم بھٹکل کا مسکن تھا۔
اس زمانے میں عموما چھ سات سال کی عمر تک مدرسہ یا اسکول میں داخلہ کا رواج نہیں تھا، ابتدائی گھریلو مکتبی تعلیم کے بعد آپ کا داخلہ انجمن اسلامیہ اینگلو اردو ہائی اسکول بھٹکل میں ہوا ، جو کبھی مین روڈ پر گورنمنٹ بورڈ پرائمری اسکول کے احاطہ میں ہوا کرتا تھا اور اس کے اطراف اپنے وقت کی مشہور عمارتیں مولانا ہال اور مصبا ہال ایستادہ تھے۔
آپ کی تعلیمی وتربیتی زندگی پر ابتدا میں جن شخصیات نے اپنا اثر چھوڑا ان میں الحاج محی الدین منیری مرحوم کا نام سر فہرست ہے، مکتب سوم میں مرحوم آپ کے استاد تھے، یہ تعلق بھٹکل سے ہوتا ہوا ممبئی تک جاپہنچا۔اور پھر یہ تعلق دوستی اور رفاقت میں بدل گیا، منیری صاحب نے جب بھی قوم کے لئے کسی مفید پروگرام کا سوچتے توجن افراد سے پہلے پہل تعاون طلب کرتے ، تو ان میں دامودی صاحب سر فہرست ہوا کرتے تھے۔ جامعہ ، جامعۃ الصالحات وغیرہ کی تاسیس میں آپ کا تعاون منیری صاحب کی رفاقت کا مرہون منت ہے۔ دامودی صاحب جب پہلے پہلے ممبئی میں معاشی جدوجہد سے وابستہ ہوئے تھے، تو منیری صاحب کی رہنمائی میں آپ نے اپنے ہم خیال رفقاء کو ساتھ لے کر قوم کی فلاح وبہبود کے لئے ایک فنڈ قائم کیا تھا، جس میں یہ رفقاء اپنے آمدنی کا ایک حصہ جمع کرتے تھے۔ جماعت کی موجودگی میں ایک نئے فنڈ کے قیام پر اعتراض کی وجہ سے یہ فنڈ زیادہ دیر نہ جاری نہ رہ سکا۔
دامودی صاحب کو مطالعہ اور بڑا ذوق تھا، تجارت اور معاشی امور میں مصروفیت کے ساتھ ساتھ کتب بینی بھی جاری رہتی تھی، کہتے تھے یہ ذوق بھی منیری صاحب کی دین تھا، اور بتاتے تھے کہ منیری صاحب ابتدائی درجات میں جب قرآن پڑھاتے تھے تو انہوں نے بچوں میں سورۃ تکاثرخوبصورت خط میں لکھنے کا ایک مقابلہ رکھا تھا، جس پرانہیں انعام دیا گیا تھا، ان میں دامودی صاحب کو پہلا انعام ملا تھا، اور آپ کو آخری پیغمبر نامی کتاب دی گئی تھی۔
ممبئی میں آپ کو مولانا قاضی شریف محی الدین اکرمی مرحوم سے سات سال تک تعلیمی و تربیتی فیض اٹھانے کا شرف حاصل ہوا۔ اکرمی صاحب بہ حیثیت عہدہ ممبئی کے نائب قاضی تھے، اور وہاں کے چیف قاضی مولانا عطاء اللہ مرگھے تھے، قاضی اکرمی بہت بڑے عالم اور فقیہ تھے، لہذا عملا ممبئی منصب قضا آپ ہی دیکھتے تھے۔ قاضی صاحب چیف قاضی خلیفہ جماعت ، متحدہ جماعت اور جماعت المسلمین بھٹکل کے قاضی رہے، انجمن اسکول میں بھی تدریس سے وابستہ رہے لیکن عبد الحمید صاحب کو ممبئی جانے کے بعد آپ کی شاگردی نصیب ہوئی تھی۔
ابھی آپ چھ سال کے تھے کہ آپ کے والد ماجد کا 1936ء میں کالرا کی وجہ سے انتقال ہوگیا، اس زمانے میں بھٹکل بہت پسماندہ تھا، یہاں علاج معالجہ کا کوئی انتظام نہیں تھا، کوئی ڈاکٹر یہاں پایا نہیں جاتا تھا، آپ کے دادا بڑے زمین دار تھے، جن کی زرعی زمینیں کرمینجیشور وغیرہ میں بہت زیادہ تھیں، لیکن یہ اس زمانے کے نظام کے مطابق غیر مسلم کسانوں کے پاس تھیں، جو کھیتی باڑی کرتے اوراس میں سے سالانہ مقرر ہ مقدارمیں چاول وغیرہ مالک زمین کو دے جاتے۔
ان حالات میں آپ کے چچا جناب ڈے اے ابوبکر اور ان کے چچازاد بھائی ڈے اے اسماعیل مرحوم نے 1932ء میں ممبئی میں ڈی اے ابوبکر اینڈ اسماعیل کے نام سے نل بازار میں دکان کھول کر اپنی تجارت کا آغاز کیا ، جس کے لئے آپ کے دادا نے اس وقت تین ہزار روپئے دئے تھے۔ والد ماجد کے انتقال کے بعد آپ کے چچا ڈی اے ابوبکر مرحوم آپ کے سرپرست بن گئے تھے۔ جنہوں نے آپ کو 1942ء میں بھٹکل کے انجمن اسکول سے نکال کر ممبئی کے احمد سیلر اسکول میں داخل کیا، پھر یہاں سے نکال کر اسماعیل بیگ محمد ہائی اسکول میں داخل کیا۔ یہ اسکول اپنے وقت کا مسلمانوں کا بڑا باوقار تعلیمی ادارہ سمجھا جاتا تھا، اس وقت اس کے پرنسپل داؤد نامی تھے ، جنہوں نے برطانوی دور میں سینٹ زیویرس کالج سے بی اے میں فرسٹ کلا س سے کامیابی حاصل کی تھی، اور اس وقت تک مسلمانوں میں سے کسی نے ان کی کامیابی کا ریکارڈ نہیں توڑا تھا، دنیاوی میدانوں میں وہ بہت کچھ ترقی کرسکتے تھے، لیکن انہوں نے قوم کی خدمت کو ترجیح دی، اسکول مینجمنٹ نے ان کی بھر پور پشت پناہی کی، ان کے خاص شاگردوں میں مرحوم عثمان حسن سابق ہیڈ ماسٹر انجمن اسکول بھٹکل بھی تھے، جو اسی جذبہ سے بھٹکل کے انجمن اسکول سے وابستہ ہوئے تھے، لیکن عمر نے ان کی وفا نہ کی، علاوہ ازیں مینجمنٹ سے بھی انہیں خاطر خواہ تعاون نہیں مل سکا۔ پرنسپل داؤد کے زمانے میں اسماعیل بیگ ہائی اسکول ممبئی کے سب سے معیاری اور ٹاپ اسکولوں میں شمار ہوتا تھا۔ 1949ء میں آپ نے یہاں سے یس یس یل سی کے امتحان میں امتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کی۔ یس یس یل سی کے بعد آپ نے ڈے اے ابوبکر اینڈ اسماعیل کمپنی میں ملازمت شروع کی۔ ابھی سترہ اٹھارہ سال کے تھے کہ چچا نے آپ کی شادی اپنے چچا زاد بھائی اور پارٹر ڈی اے اسماعیل کی دختر نیک اختر سے کرادی۔ دلہن ابھی بہت چھوٹی تھیں، شادی کے دو تین دن بعد ہی آپ کو ممبئی دکان میں ڈیوٹی کرنے کے لئے بھیج دیا، جہا ں سے تین سال بعد ہی واپس گھر کا منہ دیکھنا پڑا۔
ڈے ابو ابکر اینڈ اسماعیل میں آپ نے جملہ چودہ سال ملازمت کی، یہ اس کمپنی کا سنہر ا دور تھا، ممبئی میں خلیجی ممالک سے آنے والے عربوں کا تانتا لگا رہتا تھا، بڑے بڑے شیوخ یہاں کاروبار کے لئے آتے تھے، کبھی وہ بیمار پڑتے، یا انہیں کوئی ضرورت پیش آتی تو انہیں ان کی مدد کا موقع ملتا ، جس سے ان کی محبت اور اعتبار بڑھ جاتا ۔ اس زمانے میں ایک بار دبی کے ممتاز صاحب خیر تاجر شیخ عبد اللہ الغریر ممبئی میں ٹائفائڈ کا شکار ہوئے تھے، اس وقت آپ کو ان کی خدمت کا موقعہ ملا تھا، جس نے ان میں بڑے مخلصانہ تعلقات پیدا کردئے تھے۔ اس طرح اور بھی کئی سارے لوگ تھے جو ان پر آنکھ بند کرکے اعتماد کرتے تھے۔
چاروں یار غار عبد الحمید دامودی، اسماعیل دامودی، محمد سعید محی الدین دامودی، اور سعید حسین دامودی نے 1962ء میں ایک ساتھ ملازمت ترک کرکے اپنی ذاتی تجارت شروع کرنے کا سوچا، اور تادم آخر ان حضرات کی شراکت باقی رہی، 1963ء میں انہوں نے شراکت سے ابو کو ٹریڈرس کے نام سے ایک کمپنی کی بنا ڈالی، سعید حسین دامودی انہی دنوں دبی تشریف لے گئے، اور وہاں پر النوائط ٹریڈرس قائم کرکے امپورٹ اکسپورٹ کا کام شروع کیا۔ بھٹکلی افراد میں دبی آنے والے یہ پہلے شخص تھے، 1966ء میں عبد الحمید دامودی نے بھی دبی منتقل ہوکر پارٹنر کے ہاتھ مضبوط کئے، یہ دونوں آخر تک دبی کا کاروبار سنبھالتے رہے۔
جب دبی میں بھٹکل کے چند افراد جمع ہوگئے تو پھر بھٹکلی مسلمانوں کی روایت کے مطابق آپ ہی کے مکان پر نوائط مسلم ایسوسی ایشن کی بنیاد پڑی، جو چند سالوں کے بعد بھٹکل مسلم جماعت دبی میں تبدیل ہوگئی۔
اس دوران آپ امتحان کے دور سے بھی گذرے، جس کا آپ نے بڑی پامردی سے مقابلہ کیا۔ پھر اللہ تعالی نے آسانیاں پیدا کیں،اور مشکل گھڑی گذر گئی، اس میں آپ کو قوم کے ایک عظیم لیڈر جناب عبد القادر حافظکا مرحوم کی رہنمائی اور تعاون حاصل رہا۔
عبد الحمید دامودی مرحوم جب تک دبی میں رہے، وطن سے آنے والے علماء، اعیان و مدارس ودینی مراکز کے ذمہ داران کے مرجع رہے، ان میں سے کوئی بھی دبی آتا تو آپ سے ملاقات ضروری سمجھتا۔
ان ملاقاتیوں میں سبھی مکاتب فکر کے لوگ شامل تھے۔آخر ی تیس سالوں میں آپ کا ندوۃ العلماء سے رجوع بہت پختہ ہوگیا تھا، مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ جیسے بزرگ آپ سے بڑی محبت کرتے تھے، اور انہیں اپنی دعاؤں میں یاد کرتے تھے۔ یہ تعلق 1993ء کے بعد بہت مضبوط ہوگیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ندوہ میں ایک عظیم الشان اصلاح معاشرہ کانفرنس منعقد ہوئی تھی، یہ بھٹکل کے الحاج محی الدین منیری مرحوم کا آخری سفر تھا، اس کے چند ہی عرصہ بعد آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا تھا۔ ندوے میں مولانا عبد العزیز خلیفہ ندوی صاحب (حال قائم مقام مہتمم ندوۃ العلماء) کی موجودگی نے سونے پر سہاگے کا کام انجام دیا، انہیں ایام میں مرحوم مولانا محمد رضوان ندوی کا خیر سگالی وفود میں دبی آنا جانا شروع ہوا تھا، جس نے بھٹکل کے تاجر حضرات کو خاص طور پر ندوے اور اس کی ماتحت شاخوں سے کافی متعارف کردیا تھا۔ مولانا عبد العزیز صاحب کی تشکیل پر عبد الحمید دامودی اور بھٹکل کے مہمانوں نے اس وقت شمالی ہند کے مدارس ومکاتب کا دورہ کیا تھا، اور کئی ایک اکابر سے روابط استوار کئے تھے، جو باہمی تعاون پر منتج ہوئے۔ اس کے بعد بھی آپ نے شمالی ہند کا ایک طویل دورہ کیا تھا۔ اور یہاں پر قائم اداروں کے حالات سے اپنی دوست واحباب کو مطلع کیا تھا۔
الحاج محی الدین منیری کے ساتھ وہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل اور جامعۃ الصالحات بھٹکل سے روز اول سے وابستہ رہے تھے، اور دامے درمے سخنے اپنا تعاون پیش کرتے آئے تھے، جامعہ کے خیر سگالی وفود جب دبی جاتے تو ان کے یہاں مشاورتی نشستیں ضرور منعقد ہوتیں۔ وہ اس حالات وکوائف اور ترقی کی رفتار جان کر بہت خوش ہوتے تھے۔ آج سے کوئی بیس سال قبل آپ کی رفاقت میں جامعہ اسلامیہ کے خیر سگالی وفد نے سعودی عرب کا شمال سے جنوب تک سفر کیا تھا ، اور وہاں پر اہالیان بھٹکل جہاں جہاں موجود تھے ان سے ملاقاتیں کی تھیں، اس سفر میں ہماری رفاقت میں مرحوم عبد الغنی محتشم، جناب محمد ابراہیم قاضیا اور محمد میرا ں اسماعیل بھی موجود تھی۔ یہ ناچیز پورے سفر میں گاڑی پر آپ کی رفیق سفر رہا۔ جس کی ڈرائیونگ آپ کے نواسے یس یم بی سید عبد اللہ نے بڑی سبک رفتگی سے کی تھی ۔
وہ ہمت بڑھانے میں بھی یکتا تھے، مولانا الیاس ندوی میں جب انہوں نے کام کرنے کی صلاحیت کو محسوس کیا تو اپنے پارٹنر سعید حسین دامودی کے ساتھ آپ نے مولانا سید ابو الحسن ندوی اکیڈمی، اور علی پبلک اسکول کو قائم کرنے میں ہر طرح سے تعاون پیش کیا، بھٹکل کے اداروں میں انجمن حامی مسلمین ، تینگنگنڈی کے مدرسہ تعلیم القرآن اور نہ جانے کتنے تعلیمی اور دینی ادارے آپ کے احسان مند ہیں۔
آپ نے ایک طویل طبعی عمر پائی ، ہجری حساب سے ایک صدی پورے ہونے میں ایک سال کی کمی تھی، آپ کی زندگی ہر لحاظ سے ایک قابل رشک زندگی تھی، ان کی نیکیاں بہت زیادہ تھی، اور اللہ کی ذات سے امید ہے کہ یہ نیکیاں نے رفع درجات کا باعث بنیں گی، اللہ تعالی آپ کے درجات بلند کرے۔ آمین



