تحریر: مولانا عبد المتین منیری (بھٹکل)
قسط (2)
حضرت جب بھٹکل تشریف لاتے تھے تو یہاں کی فضاؤں میں ایک عجیب روحانی ماحول کا احساس ہوتا تھا، آپ ناریل کی مانند تھے جس کا خول سخت ہوتا ہے۔ لیکن اندرون میٹھا ملائم گودا اورقدرتی شربت ہوتا ہے۔ آپ جب آتے تو طلبہ سے خوب گھل ملتے۔ ان سے بڑی نرمی سے بات کرتے ۔ اس زمانے میں آپ جب بھی آتے تو اپنے ساتھ ایک چھوٹا جاپانی نیشنل پیناسونک کمپنی کا ٹیپ ریکارڈر جس میں صرف کیسٹ چلتا تھا اور ریڈیو نہیں ہوتا تھا، ضرور لاتے، ساتھ ہی کئی ساری کیسٹیں ہوتیں، جن میں اشرف المدارس میں پڑھنے والے ہونہار طلبہ کی تلاوتیں ریکارڈ ہوتیں۔ اور پھر اکابر کی آواز میں کلام اور تقاریر اور مجالس ہوتیں۔ ہم نے پہلے پہل آپ ہی کے توسط سے مولانا قاری فتح محمد پانی پتی مہاجر مدنیؒ کی آواز میں تلاوت اور نعتیں اور آپ کے شیخ حضرت مولانا محمد احمد پرتاب گڑھی رحمۃ اللہ علیہ کی تقاریر سنیں تھیں۔ بعد میں اللہ تعالی نے اس ناچیز سے اکابر کی آوازوں میں ریکارڈنگ کی اشاعت کی خدمت لی اس کی داغ بیل آج سے پچپن سال قبل آپ ہی کے زیر اثر پڑی تھی۔ مولانا کے سمجھانے اور تربیت کا انداز بڑا دلچسپ اور جاذب ہوتا تھا۔ آپ کی باتیں دل پر جلد اثر کرتی تھیں۔ جامعہ اسلامیہ بھٹکل نے آپ کے زیر اثر بہت کچھ حاصل کیا ، اس ادارے اور بھٹکل پر آپ کے بڑے احسانات ہیں۔ نصف صدی کے دوران بھٹکل میں جو دینی اور معاشرتی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ، ان میں مولانا کے اثر اور دعاؤوں کا نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
ہم نے آپ کے مرشد حضرت حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی دار العلوم دیوبند کی سرپرستی کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے۔ جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں آپ کے خلیفہ حضرت مولانا ابر ار الحق حقی رحمۃ اللہ علیہ کی سرپرستی کو جب دیکھا تو محسوس ہوا کہ یہ سرپرستی بھی رسما نہیں تھی۔ مولانا اس ادارے کی چھوٹی بڑی باتوں پر نظر رکھنا پسند کرتے تھے۔ اور صرف نام ونمود کے سرپرست نہیں تھے۔ اس زمانے میں سنا تھا کہ آپ کے ادارے دعوۃ الحق کے ماتحت (85) ادارے کام کرتے ہیں۔ اور آپ خود جیپ گاڑی چلا کر ان اداروں میں جاتے ہیں ، اور ان کی نگرانی کرتے ہیں۔ بھٹکل چونکہ شمالی ہند سے بہت دور تھا، اور ریل گاڑی سے یہاں آنے میں پانچ روز لگتے تھے۔ ہوائی جہاز کا سفر بھی اس زمانے میں آسان نہیں تھا۔ باوجود اس کے آپ کی کم از کم سال میں ایک بار ضرور بھٹکل آمد ہوتی تھی۔
1977ء میں جب مہتمم جامعہ مولانا شہباز اصلاحی ؒ نے مستعفی ہوکر جامعہ چھوڑ دیا تو مولانا ابرار الحق علیہ الرحمۃ کو یہاں کے حالات کی درست جانکاری نہیں تھی۔ جب حالات کو سنبھالنے کے لئے بھٹکل تشریف لائے تو اس زمانے میں یہ ناچیز جامعہ میں تدریس سے وابستہ تھا۔ اس وقت آپ نے اساتذہ سے مخاطب ہوکر فرمایا تھا کہ میں جامعہ کا سرپرست ہوں۔ اس ناطے ان کا فرض بنتا ہے کہ یہاں کے حالات سے بروقت انہیں جانکاری حاصل ہو،اس وقت آپ نے اساتذہ سے اپیل کی تھی کہ یہاں کے حالات سے انہیں آگاہ کرتے رہیں۔ اس کے بعد جامعہ کے بعض اساتذہ کی متعلقہ امور میں آپ سے مراسلت کا سلسلہ جاری رہا۔
فروری 1979ء میں جامعہ ایک بار پھر بحران کا شکار ہوا۔ اساتذہ نے ایک اسٹاف ممبر کے خلاف اجتماعی میمورنڈم پیش کردیا، جس پر آپ کا استعفی سامنے آیا، ناظم وخازن جامعہ اسے قبول کرنے کے خلاف تھے، یہ ایک نازک مرحلہ تھا، جسے حل کرنے کے لئے دوبارہ حضرت کو دعوت دی گئی، اس موقعہ پر حضرت مولانا کی تشریف آوری ہوئی، اور آپ نے اس کا یہ حل نکالا کہ اچانک صبح گیارہ بجے جامعہ کی مسجد میں شوری کا ایک اجلاس بلایا، اور کسی بحث ومباحثہ کے بغیر تمہیدی کلمات کے بعد سب ممبران کے ہاتھوں میں ایک ایک چٹھی سونپ دی، اور فرمایا کہ فلان اسٹاف ممبر کا استعفی موصول ہوا ہے۔ اسے منظور یا نامنظور کرنے کے بارے میں ہر ممبر ہاں یا یا ناں میں اس پر اپنی رائے لکھے،معلومات کے مطابق اس اجلاس میں پچیس ارکان شوری موجود تھے۔ بائیس نے اسے منظور کرنے کی رائے دی، ایک چٹھی خالی تھی، اور دو ناں میں تھی، مولانا نے ان چٹھیوں کو شرکائے اجلاس کے سامنے رکھا اور فرمایا نتیجہ بائیس ہاں، ایک خاموش، اور دو ناں میں آیا ہے۔ اب اس نتیجہ پر کیا فیصلہ کیا جائے؟، اس وقت جملہ عہدیداران اور ممبران شوری نے اکثریت کے فیصلہ کو قبول کرنے کی رائے دی۔ اس طرح مولانا کی دانشمندی سے ایک بڑا فتنہ ٹل گیا۔
آج جامعہ آباد میں کتب خانے کے سامنے جو چار کمرے کھڑے ہیں، ان میں سے دائیں طرف کا آخری کمرہ مہمان خانہ ہوا کرتا تھا، حضرت مولانا کی نشست اس میں ہوا کرتی تھی، دوسرے روز صبح ناشتہ کے بعد ایک فرستادہ نے آکر اطلاع دی کہ حضرت اساتذہ کو بلا رہے ہیں۔ آپ نے تمام اساتذہ کو دیوار کی طرف منہ کرکے بیٹھنے کی ہدایت کی ، اور ہر ایک مدرس کے ہاتھ میں ایک فل اسکیپ کاغذ تھما کر ہدایت کی کہ آپ اساتذہ کی جانب سے ایک اسٹاف ممبر کے بارے میں تحریری شکایت موصول ہوئی ہے۔ اس کاغذ پر آپ کو جو شکایتیں ہیں انہیں تحریر کریں، مولانا کی ہدایت پر اساتذہ نے یاد داشت کے مطابق اپنی اپنی شکایتیں کاغذ پر تحریر کیں۔ اس موقعہ پر کسی نے دس کسی نے سترہ شکایتیں درج کیں، لیکن کسی کی تحریر میں بھی بائیس کی بائیس شکایتوں کا اندراج نہیں تھا۔
مولانا نے تمام تحریروں کو یکجا کرکے ان پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی، اور اساتذہ کو مختصر سی نصیحتیں کیں، جن کا لب لباب یہ تھا کہ بھٹکل کے لوگ تاجر پیشہ ہیں، یہ تاجر مزاجا َ علماء پر اعتماد کرتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ یہ شریعت کے خلاف کوئی کام نہیں کریں گے۔ لیکن جب ان کا بھروسہ علماء سے ختم ہونے کا کوئی سبب بنتا ہے تو پھر اس سے ان کا دین پر سے بھی اعتماد اٹھا جاتا ہے۔
آپ حضرات اساتذہ نے دستخط کرکے جو شکایت نامہ پیش کیا ہے، ان میں سے بعض دو شکایتوں کے شاہد ہیں، بعض تین اور چار کے، لیکن کوئی بھی استاد جملہ بائیس شکایتوں کا شاہد نہیں ہے، لیکن آپ تمام نے بائیس کی بائیس شکایتوں پر دستخط ثبت کی ہے، جو کہ شہادت بالزور (جھوٹی گواہی) کے زمرے میں آتی ہے، آپ کی اس غلطی کو یہ عام لوگ سمجھ نہیں سکے، ورنہ آپ کے خلاف ایک بے اعتمادی کی فضاء بن جاتی، اور جامعہ کا بڑا نقصان ہوتا، ایسی خطرناک غلطیوں سے بچیں، اور آئندہ کوئی شکایت کرنی ہو تومیمورنڈم کی شکل میں اجتماعی شکایتیں نہ کریں، بلکہ جو شکایتیں آپ کو نظر آئیں بس وہی شکایتیں درج کریں۔ اس سے آپ جھوٹے ثابت نہیں ہونگے۔
اس کے بعد ایک طویل عرصہ تک بھٹکل مولانا کی حاضری سے محروم رہا، البتہ 1994ء میں ناظم جامعہ الحاج محی الدین منیری صاحب کی رحلت کے بعد تعزیت کی غرض سے آپ کی حاضری ہوئی تھی۔ مولانا جب تک بقید حیات رہے بھٹکلی احباب میں سے کسی کا بھی لکھنو سفر ہوتا تو اس سفر میں حضرت مولانا ابر ار الحق رحمۃ اللہ کی خدمت میں ہردوئی کی زیارت ضرور ہوتی۔ اس دوران اس ناچیز کا بھی بارہا ہردوئی کا دورہ ہوا ، حضرت کا حادثہ رحلت 7 / مئی 2005 کو پیش آیا تھا، لیکن اس سے پہلے آپ کافی بیمار پڑنے لگے تھے، اور چلنے پھرنے سے معذور سے ہوگئے تھے، اس دوران بھی حضرت کی خدمت میں حاضری ہوئی تھی، اور حضرت کی رحلت کے بعد بھی ایک بار ہردوئی جانے کا موقعہ ملا تھا۔ یاد پڑتا ہے کہ اس ناچیز کا سنہ 1984ء کے اوائل میں جب ہردوئی کا سفر ہوا تھا، تو حضرت سے بھٹکل میں آپ کی امامت میں نماز فجر کی ادائیگی کے لطف کا ذکر کیا تھا، اور آپ نے اس روز فجر کی امامت کی تھی، جس پر احباب نے بتایا کہ مولانا آج کل فجر کی امامت نہیں کرتے ، آپ کا دل رکھنے کے لئے امامت کی ہے، جس پر ہمیں بڑی شرمندگی ہوئی، کیونکہ ہمیں اتنی عمر گذر نے کے باوجود بزرگوں کی مزاج شناسی نہیں آئی تھی۔
حضرت مولانا کا جولائی 1998ء میں جنوبی افریقہ کا سفر ہوا تھا تو آپ نے ہمارے دوست محمد مظفر کولا مرحوم کی اصرار پر دوران واپسی دبی میں تین روز قیام کیا تھا، اس دورے میں شب وروز آپ کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا، ان تین دنوں میں تین مجالس رکھی گئی تھیں، جن کی ریکارڈنگ آج بھی اردو آڈیو ڈاٹ کام پر سنی جاسکتی ہے، اس سلسلے کی ایک عوامی مجلس مسجد الغریر میں رکھنی طے تھی، ویسے وہاں کا نظم ونسق امام وخطیب مولانا یعقوب قاسمی مرحوم کے پاس تھا، جو مسجد میں کوئی پروگرام رکھنے میں آزاد تھے، باوجود اس کے ہم نے احتیاطا اوقاف میں مجلس کی اجازت کے لئے درخواست داخل کردی تھی، جس کی زبانی منظور ی مل چکی تھی، لیکن کسی وجہ سے اجازت نامے پر مدیر کے دستخط میں تاخیر ہوگئی تھی، اس وقت ہمارے ایک بزرگ نے مولانا کے کان میں ڈالا کہ یہاں بیانات کے لئے سرکاری اجازت نامہ لینا پڑتا ہے، اور مولانا نے اس ناچیز سے اجازت نامہ طلب کردیا،تیار نہ ہونے کی وجہ سے اس سے بڑی سبکی ہوئی، اور مولانا نے مسجد الغریر میں بیان سے معذرت کرلی، اسی طرح صاحب خیر تاجر شیخ عبد الرزاق رصاصی مرحوم کے اصرار پر مظفر صاحب نے دعوت طے کی تھی، لیکن مولانا کو مجالس اور دعوت کا جو پروگرام دیا گیا تھا، اس میں اس دعوت کا اندراج نہیں تھا، تو مولانا نے وہاں پر بیان تو دیا ، لیکن دعوت میں شرکت سے معذرت کرلی۔ یہ مولانا کے نظم ونسق کی پابندیوں کا ایک پہلو تھا۔
مولانا کی رحلت کے بعد ایک بار ہردوئی جانا ہوا تھا، اور پرانی یادیں تازہ ہوئی تھیں، در ودیوار میں آپ کی خوشبوئیں رچی بسی محسوس ہوتی تھیں ،اور دل پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوئی تھی، طبعیت میں ایک اداسی چھا گئی، اور آپ کو یاد کرکے زبان پر فراق گورکھپوری کا یہ شعر یاد آرہا تھا۔
آنے والی نسلیں تم پر فخر کریں گی ہم عصرو
جب بھی ان کو دھیان آئے گا، تم نے فراق کو دیکھا تھا
اور واقعی ہم نے اہل اللہ میں سے ایک ایسی شخصیت کو دیکھا تھا، جس کے عادات و اطوار نظم ونسق کی دوسری مثال اس وقت دو ر دور تک نظر نہیں آتی تھی۔ اللھم اغفر لہ وارحمہ۔



