لندن کے رائل فیسٹیول ہال میں منعقدہ بافٹا ٹی وی ایوارڈز 2026 کی پروقار تقریب میں غزہ کے طبی عملے پر ہونے والے مظالم کی عکاسی کرنے والی دستاویزی فلم ’’غزہ: ڈاکٹرز انڈر اٹیک‘‘ (Gaza: Doctors Under Attack) نے ’کرنٹ افیئرز‘ کے زمرے میں بہترین فلم کا ایوارڈ اپنے نام کر لیا ہے۔ اس دستاویزی فلم کی کامیابی نے نہ صرف غزہ میں جاری انسانی بحران کو عالمی سطح پر نمایاں کیا ہے بلکہ برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے اس فیصلے پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں جس کے تحت اس نے اس فلم کو نشر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
ایوارڈ وصول کرنے کے دوران فلم کے تخلیق کاروں نے بی بی سی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایگزیکٹو پروڈیوسر بین ڈی پیئر نے اسٹیج پر کھڑے ہو کر براہِ راست بی بی سی کو مخاطب کیا، جس نے تقریب کو دو گھنٹے کی تاخیر سے نشر کیا تھا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ ’’چونکہ آپ نے ہماری فلم کو نشر کرنے سے انکار کر دیا تھا، تو کیا آپ ہمیں بافٹا کی اس اسکریننگ سے بھی نکال دیں گے؟‘‘ واضح رہے کہ بی بی سی نے ابتدا میں یہ دستاویزی فلم کمیشن کی تھی لیکن بعد میں اسے ’جانبداری‘ کا عذر پیش کرتے ہوئے نشر کرنے سے روک دیا تھا۔
معروف صحافی اور پریزنٹر رمیتا ناوائی نے ایوارڈ وصول کرتے ہوئے انتہائی جذباتی اور طاقتور خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی تحقیقاتی رپورٹ ہے جس کے لیے بی بی سی نے ادائیگی کی لیکن اسے دکھانے سے انکار کر دیا۔ رمیتا نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’ہم خاموش رہنے اور سنسرشپ کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ ہم چینل 4 کے شکر گزار ہیں جس نے اس سچ کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔‘‘ رمیتا ناوائی نے انکشاف کیا کہ غزہ میں جاری اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے دوران 1,700 سے زائد فلسطینی ڈاکٹر اور ہیلتھ ورکرز شہید کیے جا چکے ہیں جبکہ 400 سے زائد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
رمیتا ناوائی نے یہ باوقار ایوارڈ ان فلسطینی طبی کارکنوں کے نام کیا جو اس وقت اسرائیلی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔ دستاویزی فلم میں غزہ کے ان ہیلتھ ورکرز کے آنکھوں دیکھے احوال اور فوٹیجز شامل ہیں جنہوں نے ہسپتالوں پر بمباری اور طبی سہولیات کی عدم موجودگی میں ہزاروں زخمیوں کی جان بچانے کی کوشش کی۔ بی بی سی نے اس فلم کو یہ کہہ کر مسترد کیا تھا کہ اس سے ادارے کی غیر جانبداری پر حرف آسکتا ہے، تاہم اسی فلم کو بافٹا جیسے معتبر ادارے نے سال کی بہترین رپورٹنگ قرار دیا۔
ایوارڈ کی تقریب کے بعد بیک اسٹیج بات کرتے ہوئے بین ڈی پیئر نے غزہ کے ان صحافیوں جابر بدوان اور اسامہ العشی کی ہمت کو سراہا جنہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر یہ فوٹیجز ریکارڈ کیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم ہر صبح اس خوف کے ساتھ بیدار ہوتی تھی کہ شاید غزہ میں موجود ان کے ساتھی اب زندہ نہ رہے ہوں۔ یہ فلم اب عالمی سطح پر اسرائیل کے جنگی جرائم اور غزہ کے ڈاکٹروں کی لازوال قربانیوں کی ایک مستند دستاویز بن چکی ہے جس نے سنسرشپ کی زنجیریں توڑ کر سچائی کا لوہا منوا لیا ہے۔




