حکومت ہند نے مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی نازک صورتحال کے پیش نظر ملک کی توانائی کی حفاظت کے حوالے سے اہم بیان جاری کیا ہے۔ ایک بین الوزارتی اجلاس کے دوران حکومت نے وزیراعظم نریندر مودی کی اس اپیل کو دہرایا ہے جس میں تمام شہریوں سے پیٹرول اور ڈیزیل کے استعمال میں کمی لانے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ ملکی معیشت پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
وزارت پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے تمام ہم وطنوں سے گزارش کی ہے کہ وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں ایندھن کی بچت کو ترجیح دیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ جہاں تک ممکن ہو سکے شہری میٹرو اور عوامی نقل و حمل (Public Transport) کا استعمال کریں، کار پولنگ کو فروغ دیں اور مال برداری کے لیے ریلوے کو ترجیح دی جائے۔ اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم ہو سکے۔
تیل کی سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کو دور کرتے ہوئے سجاتا شرما نے یقین دہانی کرائی کہ ملک میں خام تیل کا ذخیرہ (Crude Oil Inventory) بہتر حالت میں ہے اور فی الحال کسی بحران کا خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کی تمام ریفائنریاں اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور پیٹرول پمپس یا ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے پاس اسٹاک کی کوئی کمی رپورٹ نہیں ہوئی ہے۔ گزشتہ تین دنوں کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 1 کروڑ 14 لاکھ بکنگ کے مقابلے میں 1 کروڑ 26 لاکھ ایل پی جی سلنڈر صارفین تک پہنچائے گئے ہیں، جو سپلائی چین کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 104 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی (WTI) بھی 97 ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ ان حالات میں بھارتی تیل کمپنیوں (OMCs) کو بڑے مالی نقصان کا سامنا ہے کیونکہ حکومت نے گزشتہ دو سال سے خوردہ قیمتوں میں کوئی بڑا اضافہ نہیں کیا ہے تاکہ عام صارف متاثر نہ ہو۔ رپورٹس کے مطابق سرکاری تیل کمپنیوں کو گزشتہ 10 ہفتوں میں ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے، تاہم حکومت نے فی الحال ان کمپنیوں کے لیے کسی امدادی پیکیج کا اعلان نہیں کیا ہے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بھارتی جہازوں پر کسی قسم کا ٹیکس ادا نہیں کیا جا رہا ہے، جس سے ان افواہوں کی تردید ہو گئی ہے جن میں بحری راستوں کی بندش یا اضافی اخراجات کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور دفاعی و اقتصادی محاذوں پر توانائی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔




