مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے بحران اور عالمی توانائی مارکیٹ پر پڑنے والے دباؤ کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے عوام سے کی گئی سات مختلف اپیلوں نے ملک میں ایک بڑا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے شہریوں سے ایندھن کی بچت، سونے کی خریداری سے گریز، ایک سال تک بیرون ملک سفر نہ کرنے اور ورک فرام ہوم کو ترجیح دینے کی درخواست کی ہے۔ اس بیان کے سامنے آتے ہی کانگریس، سماجوادی پارٹی، عام آدمی پارٹی اور شیوسینا (یو بی ٹی) سمیت تمام بڑی اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور اسے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی بدترین ناکامی قرار دیا ہے۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی یہ اپیل دراصل ان کی حکومت کی ناکامی کا اعتراف ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ مودی جی نے 12 سال میں ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ اب وہ عوام کو بتا رہے ہیں کہ انہیں کیا خریدنا چاہیے اور کہاں جانا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم ہر بار اپنی ذمہ داری عوام پر ڈال کر خود جوابدہی سے بچ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق، ملک چلانا اب "کمپرومائزڈ پی ایم” کے بس کی بات نہیں رہی۔
کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی وزیراعظم پر تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے کہا کہ "غریبی میں آٹا گیلا” ہو رہا ہے اور وزیراعظم عوام کو بچت کا پاٹھ پڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کانگریس نے فروری میں ہی معیشت کی تباہی اور ایندھن کی قیمتوں کے حوالے سے تنبیہ کی تھی، لیکن اس وقت وزیراعظم انتخابی تشہیر اور روڈ شو میں مصروف تھے۔ کھڑگے نے کہا کہ اپنی 12 سالہ ناکامی کا ٹھیکرا عوام پر نہیں پھوڑنا چاہیے۔ اسی طرح سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے طنز کیا کہ انتخابات ختم ہوتے ہی حکومت کو بحران یاد آ گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر عوام پر اتنی پابندیاں لگائی جائیں گی تو 5 ٹرلین ڈالر کی معیشت کا خواب کیسے پورا ہوگا؟
اپوزیشن رہنماؤں بشمول سنجے سنگھ اور پرینکا چترویدی نے بھی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب روپیہ ڈالر کے مقابلے میں تاریخی گراوٹ کا شکار ہے، تو حکومت ٹھوس پالیسی بنانے کے بجائے عوام کو مشورے دے رہی ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ کارتی پی چدمبرم نے اس معاملے پر فوری پارلیمانی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام کو ان حالات کی حقیقت سے آگاہ کیا جا سکے جن کی وجہ سے حکومت کو ایسی ہنگامی اپیلیں کرنی پڑی ہیں۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ جب بی جے پی انتخابات میں ہزاروں چارٹرڈ طیارے اور بے پناہ وسائل استعمال کر رہی تھی، تب انہیں ایندھن کی بچت یاد نہیں آئی، لیکن اب سارا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔




