سنبھل : اسکول میں اسلامی تعلیم دینے کے الزام میں ہیڈماسٹر سمیت دو اساتذہ معطل

اتر پردیش کے سنبھل میں ایک پی ایم شری اسکول کے مسلم ہیڈ ماسٹر اور اساتذہ کے خلاف “اسلامی تعلیم” دینے کے الزام میں فوری معطلی اور ایف آئی آر کی کارروائی نے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق یہ کارروائیاں بچوں کے مفت اور لازمی تعلیم کے ایکٹ 2009 کے سیکشن 17، آئین کے آرٹیکل 28 اور اتر پردیش گورنمنٹ سرونٹ کنڈکٹ رولز، 1956 کی دفعات کی خلاف ورزی ہیں۔ ساتھ ہی، یہ کہا گیا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں اسکول کے ماحول اور بچوں کی ذہنی نشوونما پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر یہ قدم اٹھایا گیا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف الزامات اور سوشل میڈیا مواد کی بنیاد پر کسی استاد کو مجرم کے طور پر پیش کرنا انصاف کے اصولوں کے مطابق ہے؟

تعلیمی و سماجی حلقوں میں اس معاملے پر تشویش پائی جا رہی ہے کہ آخر مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات سے قبل ہی سخت تادیبی کارروائی کیوں کی گئی؟ کیا یہی معیار ہر معاملے میں اختیار کیا جاتا ہے یا پھر مخصوص طبقے سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ افراد ہی فوری کارروائی کا نشانہ بنتے ہیں؟

ماضی میں متعدد ایسی ویڈیوز اور واقعات سامنے آ چکے ہیں جن میں بعض سرکاری و تعلیمی اداروں میں ہندوانہ رسومات، مذہبی نعروں یا مخصوص مذہبی تقریبات کے انعقاد کے مناظر وائرل ہوئے، مگر اکثر معاملات میں نہ معطلی دیکھنے کو ملی اور نہ ہی ایف آئی آر درج کیے جانے کی خبریں سامنے آئیں۔ ایسے میں سنبھل معاملے میں غیر معمولی سرعت سے کی گئی کارروائی فطری طور پر دوہرے معیار کے سوال کو جنم دیتی ہے۔

سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ اگر کسی اسکول میں واقعی ضابطے کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو کیا اس کا فیصلہ قانونی اور شفاف تحقیقات کے بعد نہیں ہونا چاہیے تھا؟ کیا محض مذہبی شناخت کی بنیاد پر اساتذہ کو فوری طور پر ہدف بنانا ملک کے سیکولر اور آئینی اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے؟

ماہرین کا ماننا ہے کہ تعلیمی ادارے پہلے ہی سیاسی اور مذہبی کشیدگی کے اثرات محسوس کر رہے ہیں، اور اگر کسی مخصوص طبقے کے اساتذہ کے خلاف بغیر مکمل عدالتی یا محکمانہ عمل کے سخت کارروائیاں جاری رہیں تو اس سے تعلیمی ماحول میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس بڑھ سکتا ہے۔

یہ معاملہ اب صرف ایک اسکول تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ سوال بھی اہم ہو چکا ہے کہ کیا ملک میں قانون اور انتظامی کارروائی کا پیمانہ سب کے لیے یکساں ہے، یا پھر کچھ طبقات کے لیے معیار الگ اختیار کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں۔