انسان اگر سچے دل سے کچھ پانے کی تمنا کرے اور اس کے ارادے چٹان کی طرح مضبوط ہوں تو جسمانی معذوری اس کے راستے کی دیوار نہیں بن سکتی۔ اس بات کو سچ ثابت کر دکھایا ہے فیضان اللہ نے، جنہوں نے سیریبرل پالسی جیسی سنگین بیماری سے متاثر ہونے کے باوجود دسویں جماعت کے بورڈ امتحانات میں 93 فیصد نمبر حاصل کر کے سب کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ فیضان کے دونوں ہاتھ کام نہیں کرتے، لیکن انہوں نے اپنی اس کمزوری کو مجبوری نہیں بننے دیا بلکہ اپنی زبان اور منہ کو قلم کا سہارا بنا کر کامیابی کی ایک نئی داستان رقم کر دی۔
فیضان اللہ پیدائشی طور پر سیریبرل پالسی کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے ان کے جسمانی اعضاء کی حرکت محدود ہے اور وہ اپنے ہاتھوں کا استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ تاہم، تعلیم حاصل کرنے کا شوق ان کے اندر اس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا تھا کہ انہوں نے منہ میں قلم دبا کر لکھنے کی مشق شروع کی۔ ابتدائی طور پر یہ عمل انتہائی تکلیف دہ اور مشکل تھا، لیکن فیضان کی مسلسل محنت اور کچھ کر گزرنے کے جذبے نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ امتحانی ہال میں جب فیضان نے اپنے مخصوص انداز میں پرچہ لکھنا شروع کیا تو وہاں موجود اساتذہ اور عملہ بھی ان کی لگن دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔
اس عظیم کامیابی کے پیچھے جہاں فیضان کی اپنی انتھک جدوجہد شامل ہے، وہی ان کے والدین کی قربانیاں اور اساتذہ کی صحیح رہنمائی کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ فیضان کے والدین نے کبھی انہیں بوجھ نہیں سمجھا بلکہ ہر قدم پر ان کا حوصلہ بڑھایا۔ ان کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ فیضان کلاس کے ذہین ترین طالب علموں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے سوالات ہمیشہ گہری سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ اساتذہ کے مطابق فیضان کی یہ کامیابی محض ایک طالب علم کی جیت نہیں ہے بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک جواب ہے جو معمولی مشکلات پر ہمت ہار دیتے ہیں۔
فیضان اللہ کی اس غیر معمولی کامیابی کی خبر سوشل میڈیا اور تعلیمی حلقوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ وہ اب ان ہزاروں نوجوانوں کے لیے حوصلے کی ایک روشن مثال بن چکے ہیں جو کسی نہ کسی جسمانی یا معاشی مجبوری کا شکار ہیں۔ فیضان کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے معاشرے کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ معذوری صرف جسم میں ہوتی ہے، ذہن اور خوابوں میں نہیں۔
حکومتی اور سماجی سطح پر بھی فیضان اللہ کی اس کامیابی کو سراہا جا رہا ہے۔ ماہرینِ تعلیم کا ماننا ہے کہ فیضان جیسے باصلاحیت بچوں کو اگر مناسب سہولیات اور سرپرستی میسر آئے تو وہ ملک و قوم کا نام روشن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ فیضان اللہ نے یہ پیغام دیا ہے کہ اگر عزم بلند ہو تو منزل خود بخود قریب آ جاتی ہے اور کامیابی صرف ان کے قدم چومتی ہے جو حالات سے لڑنا جانتے ہیں۔




