وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کا بڑا فیصلہ: اقلیتی طلبہ کے لئے 10اضلاع میں خصوصی ڈگری کالجز کے قیام کا اعلان

تلنگانہ کی کانگریس حکومت نے ریاست میں اقلیتوں کی تعلیمی اور سماجی پسماندگی دور کرنے کے لیے ایک جامع منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ریاست کے 10 ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں اقلیتی طلبہ کے لیے مخصوص ڈگری کالجز قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ان تعلیمی اداروں کی انفرادیت یہ ہوگی کہ یہاں روایتی مضامین کے ساتھ ساتھ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور مختلف فنی مہارتوں (Skill Development) کی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ نوجوانوں کو تعلیم مکمل کرتے ہی روزگار کے بہتر مواقع میسر آسکیں۔

وزیراعلیٰ نے حکام کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ ان کالجز میں پریکٹیکل ٹریننگ پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ طلبہ عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔ اس کے علاوہ، حکومت نے ایک ایسی اسکیم تیار کرنے کی تجویز دی ہے جس کے تحت اقلیتی طبقے کے ہونہار طلبہ کو ایس سی، ایس ٹی اور بی سی برادریوں کی طرز پر مالی حوصلہ افزائی اور اسکالرشپس فراہم کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد مالی مشکلات کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

نظامی اور انتظامی سطح پر بھی حکومت نے بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ کیا ہے۔ گروپ-1، گروپ-2 اور گروپ-3 سروسز کے تحت منتخب ہونے والے اقلیتی امیدواروں کو براہ راست محکمہ اقلیتی بہبود میں تعینات کیا جائے گا۔ اس حکمت عملی کا مقصد یہ ہے کہ افسران نچلی سطح پر اپنی کمیونٹی کے مسائل کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں اور حکومتی اسکیموں کا فائدہ مستحقین تک پہنچا سکیں۔ ساتھ ہی، وزیراعلیٰ نے ریاست بھر کے اماموں اور مؤذنوں کو ماہانہ اعزازیہ کی ادائیگی میں ہونے والی تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ہر ماہ وقت پر یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔

مذہبی اور ثقافتی ہم آہنگی کے حوالے سے ریونت ریڈی حکومت نے دریائے موسیٰ کی بحالی کے منصوبے میں ایک تاریخی قدم اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت مندر کے ساتھ مسجد، چرچ اور گوردوارہ بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ ان مذہبی مقامات کا ڈیزائن ایسا ہونا چاہیے جو تلنگانہ کی گنگا جمنی تہذیب اور ہندوستان کی ‘کثرت میں وحدت’ کی عکاسی کرے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو قبرستانوں کے لیے اراضی کی دستیابی کے مسائل فوری حل کرنے اور ضرورت کے مطابق زمین الاٹ کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔

حکومت کے ان فیصلوں کو تلنگانہ کی اقلیتی برادری بالخصوص نوجوان طبقے کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین تعلیم کا ماننا ہے کہ اگر ان منصوبوں پر شفافیت کے ساتھ عمل درآمد ہوا تو تلنگانہ ملک میں اقلیتی بہبود کے حوالے سے ایک رول ماڈل بن کر ابھرے گا۔

شیئر کریں۔