کاروار (فکروخبرنیوز) شہر کے ہبواڈا روڈ پر کے-شِپ (KSHIP) محکمے کی جانب سے کی گئی ایک مبینہ ‘غیر سائنسی’ تعمیراتی مہم عوامی غم و غصے کا مرکز بن گئی ہے۔ گیتانجلی تھیٹر سے اسکان ٹیمپل تک موجود بہترین حالت کی کنکریٹ سڑک پر اچانک ڈامر (تارکول) بچھانے کے عمل نے شہریوں اور مقامی حکام کو حیرت میں ڈال دیا۔
بغیر کسی پیشگی اطلاع کے شروع کیے گئے اس کام پر مقامی لوگ مشتعل ہو گئے اور کام روک دیا۔ اطلاع ملتے ہی بلدیہ کے اہلکار موقع پر پہنچے، لیکن جب ٹھیکیدار نے کام روکنے سے انکار کیا تو حکام نے اپنی سرکاری گاڑی ہی ڈامر بچھانے والی مشین کے سامنے کھڑی کر دی تاکہ کام کو زبردستی روکا جا سکے۔
اس معاملے پر پی ڈبلیو ڈی (PWD) کے ایگزیکٹو انجینئر ملیکارجن جیرٹگی نے واضح کیا کہ یہ کام ان کے محکمے سے این او سی لیے بغیر شروع کیا گیا۔ دوسری جانب کے-شِپ محکمے کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اس حصے کو ‘ایکسیڈنٹ زون’ قرار دے کر سڑک کی حفاظت کے لیے 2 کروڑ روپے کی لاگت سے یہ منصوبہ شروع کیا تھا۔
عوامی احتجاج اور معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مقامی رکن اسمبلی ستیش سیل نے فوری مداخلت کی اور کام روکنے کا حکم دیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کنکریٹ پر بچھایا گیا ڈامر فوری طور پر ہٹایا جائے گا۔ عوامی دباؤ کے بعد آج اس غیر سائنسی ڈامر کو ہٹانے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔
شہریوں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حادثات روکنے کے نام پر اچھی سڑک کو خراب کرنا اور عوامی پیسے کا ضیاع افسوسناک ہے، وہ اس معاملے میں ٹھیکیدار کے خلاف قانونی کارروائی کے بارے میں بھی غوروخوض کریں گے۔




