مغربی بنگال میں سیاسی طوفان : شکست کے باوجود ممتا بنرجی کا استعفے سے انکار,الیکشن کمیشن پر لگائے سنگین الزامات

مغربی بنگال، تمل ناڈو اور کیرالہ کے اسمبلی انتخابات کے نتائج نے ملکی سیاست میں ایک غیر معمولی تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ مغربی بنگال کی سبکدوش ہونے والی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے انتخابات میں اپنی پارٹی کی شکست کے بعد عہدے سے استعفیٰ دینے سے سختی سے انکار کر دیا ہے۔ منگل کے روز انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ انتخابی نتائج حقیقی عوامی مینڈیٹ نہیں ہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہیں۔

ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی کا اصل مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن سے تھا، جس نے مبینہ طور پر بی جے پی کے مفاد میں کام کیا۔ دوسری جانب بی جے پی، جس نے پیر کے روز ریاست میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی، اپنی پہلی حکومت سازی کے لیے تیزی سے متحرک ہو گئی ہے۔ بی جے پی اعلیٰ کمان نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو مغربی بنگال میں قانون ساز پارٹی کے لیڈر کے انتخاب کے لیے مرکزی مبصر مقرر کر دیا ہے۔ اسی طرح آسام میں بھی قانون ساز پارٹی کے لیڈر کے انتخاب کے لیے مرکزی وزیر جے پی نڈا کو مبصر کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

جنوبی ہند کی ریاست تمل ناڈو میں بھی سیاسی منظر نامہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ ڈی ایم کے کے صدر ایم کے اسٹالن نے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور اپنا باضابطہ استعفیٰ تمل ناڈو کے گورنر راجیندر وشوناتھ ارلیکر کو پیش کر دیا ہے۔ تمل ناڈو کے ان انتخابات میں سب سے بڑی سیاسی تبدیلی مشہور اداکار وجے کی پارٹی ‘ٹی وی کے’ (TVK) کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ اس نوآموز پارٹی نے 234 میں سے 108 نشستیں حاصل کر کے ریاست کی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرنے کا شاندار کارنامہ انجام دیا ہے۔

ممتا بنرجی کے حالیہ بیانات اور الیکشن کمیشن کے خلاف محاذ آرائی کے بعد مغربی بنگال کی سیاست میں مزید کشیدگی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ قانونی اور سیاسی حلقوں کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ حکومت سازی کے آئینی عمل کے دوران ترنمول کانگریس کی اعلیٰ قیادت کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔

شیئر کریں۔