کرناٹک حکومت کا بڑا فیصلہ: اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر پابندی ختم، بی جے پی دور کا متنازع حکم نامہ واپس

بنگلورو: کرناٹک کی کانگریس حکومت نے ایک تاریخی اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے ریاست کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر عائد پابندی کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے۔ ریاستی حکومت نے جمعرات کے روز ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت 2022 میں سابقہ بی جے پی حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندی کو واپس لے لیا گیا ہے۔ نئے حکم نامے کے مطابق، اب طالبات مقررہ یونیفارم کے ساتھ "محدود روایتی اور عقائد پر مبنی علامات” بشمول حجاب پہننے کی مجاز ہوں گی۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاست میں حجاب کا مسئلہ گزشتہ تین سالوں سے قانونی اور سماجی بحث کا مرکز بنا ہوا تھا۔ محکمہ اسکولی تعلیم اور خواندگی کے وزیر مدھو بنگارپا نے وزیر صحت دنیش گنڈو راؤ اور شواجی نگر کے ایم ایل اے رضوان ارشد کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران اس نئے حکم نامے کی تفصیلات جاری کیں۔ وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ حکومت تمام طلبہ کو ان کی مذہبی اور روایتی اقدار کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کا مساوی موقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

واضح رہے کہ حجاب کا تنازع فروری 2022 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب اوڈوپی کے ایک سرکاری کالج میں چند مسلم طالبات کو حجاب پہننے کی وجہ سے کلاسوں میں بیٹھنے سے روک دیا گیا تھا۔ اس وقت کی بی جے پی حکومت نے 5 فروری 2022 کو ایک آرڈر جاری کیا تھا جس میں صرف مقررہ یونیفارم کی پابندی پر زور دیا گیا تھا، جس کی ترجمانی حجاب پر پابندی کے طور پر کی گئی۔ اس فیصلے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا اور معاملہ کرناٹک ہائی کورٹ سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ تک پہنچا تھا۔ مارچ 2022 میں ہائی کورٹ نے پابندی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا تھا کہ حجاب اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے، جبکہ سپریم کورٹ نے اس پر منقسم فیصلہ سنایا تھا، جس کے بعد یہ معاملہ ایک بڑی بنچ کے پاس زیر التوا ہے۔

سیاسی مبصرین اس فیصلے کو ریاست کی حالیہ سیاسی صورتحال سے بھی جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج اور مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد کانگریس حکومت نے اپنے انتخابی وعدے کو پورا کرنے کی سمت میں یہ قدم اٹھایا ہے۔ مسلم قیادت کا موقف تھا کہ اقتدار میں آنے کے طویل عرصے بعد بھی حجاب جیسے حساس مسئلے پر کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

حکومت کے اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جہاں مسلم تنظیموں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے اسے آئینی حقوق کی بحالی قرار دیا ہے، وہیں بی جے پی نے اسے "ترغیب کی سیاست” (Appeasement Politics) قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔ تاہم، موجودہ حکم نامے کے بعد اب ریاست کے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پہننے والی طالبات کے لیے تعلیمی دروازے بغیر کسی رکاوٹ کے کھل گئے ہیں۔

شیئر کریں۔