یونان میں ’صمود فلوٹیلا‘ پر اسرائیلی افواج کی کڑی نگرانی، کارروائی کا خدشہ

گلوبل صمود فلوٹیلا نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے لیے روانہ ہونے والے انسانی امدادی جہازوں کو یونان کے ساحل کے قریب اسرائیلی افواج کی جانب سے مسلسل فوجی نگرانی اور دباؤ کا سامنا ہے۔ پیر کی شام جاری ہونے والے ایک بیان میں فریڈم فلوٹیلا کولیشن نے سنگین خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیلی دستے سمندر میں دھمکی آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے ان امدادی جہازوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

فلوٹیلا کے منتظمین نے مشن کی پیش رفت کے حوالے سے جو تفصیلات شیئر کی ہیں ان کے مطابق سمندر میں فضا اور پانی دونوں اطراف سے چوکسی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ فلسطینی وقت کے مطابق شام سات بج کر ستائیس منٹ پر امدادی بیڑے میں شامل چار جہازوں نے اطلاع دی کہ ایک فوجی ہیلی کاپٹر ان کے اطراف مسلسل پرواز کر رہا ہے۔ رات کے وقت اس نگرانی میں مزید اضافہ دیکھا گیا اور نو بج کر ترپن منٹ پر فلوٹیلا کے اوپر تین ڈرونز کی موجودگی ریکارڈ کی گئی۔ شرکاء کے مطابق کچھ فاصلے پر ایک نامعلوم جہاز بھی موجود تھا جس نے اپنی نیویگیشن لائٹس مکمل طور پر بند کر رکھی تھیں، جو عموماً خفیہ فوجی نقل و حرکت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

بحری ٹریکنگ ڈیٹا کے حوالے سے امدادی گروپ نے نشاندہی کی ہے کہ ان واقعات سے کچھ دیر قبل ایک امریکی لاک ہیڈ مارٹن طیارے نے بھی بیڑے کے اوپر سے اڑان بھری تھی۔ فلوٹیلا کے شرکاء نے رات کے اندھیرے میں نامعلوم کشتیوں اور سفید روشنیوں کو بھی اپنے جہازوں کے قریب آتے ہوئے دیکھا۔ اس صورتحال کے پیش نظر امدادی رضاکاروں نے الرٹ جاری کیا ہے کہ کسی بھی وقت جہازوں کو زبردستی روکا جا سکتا ہے اور مشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ کی پٹی کے چوبیس لاکھ عوام مسلسل محاصرے اور شدید قحط جیسی صورتحال سے دوچار ہیں۔ اسرائیل نے دو ہزار سات سے اس علاقے کی کڑی ناکہ بندی کر رکھی ہے جس نے بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی کو بھی انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ اکتوبر دو ہزار تیئس سے شروع ہونے والے حالیہ فوجی آپریشن نے علاقے کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور انسانی بحران کو ایک خطرناک نہج تک پہنچا دیا ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق اس مسلسل تنازعے میں اب تک بہتر ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور ایک لاکھ بہتر ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین اور انسانی حقوق کے تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ عالمی سمندری حدود میں انسانی امداد کے جہازوں کی عسکری سطح پر نگرانی اور رکاوٹ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہو گی، اور اس سے خطے میں موجود کشیدگی مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ ان تمام خطرات کے باوجود صمود فلوٹیلا کے رضاکار غزہ تک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانے کے اپنے عزم پر قائم ہیں۔

شیئر کریں۔