کیا مسلم ووٹوں کی تقسیم بی جے پی کی جیت کا سبب بنی؟

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج نے ریاست کی دہائیوں پرانی سیاسی روایت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 294 رکنی اسمبلی میں 207 نشستیں حاصل کر کے پہلی بار ریاست میں اپنی حکومت سازی کی راہ ہموار کر لی ہے، جبکہ ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس محض 80 نشستوں پر سمٹ گئی ہے۔ ان نتائج میں سب سے حیران کن پہلو مسلم اکثریتی حلقوں میں بی جے پی کی غیر معمولی کامیابی اور ترنمول کانگریس کے روایتی ووٹ بینک میں ہونے والی بڑی دراڑ ہے۔

ریاست کے وہ اضلاع جو روایتی طور پر ترنمول کانگریس کے مضبوط گڑھ مانے جاتے تھے، وہاں بی جے پی نے تاریخی نقب زنی کی ہے۔ مرشد آباد، مالدہ اور شمالی دیناج پور جیسے اضلاع، جہاں مسلم آبادی 50 فیصد سے زائد ہے، وہاں بی جے پی کی نشستوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، ان تین اضلاع کی 43 نشستوں میں سے بی جے پی نے 18 پر قبضہ جما لیا ہے، جبکہ 2021 میں یہ تعداد محض 8 تھی۔ ترنمول کانگریس جو پچھلی بار یہاں 35 نشستوں پر فاتح رہی تھی، اب صرف 20 نشستوں تک محدود ہو گئی ہے۔ ترنمول کانگریس نے ان نتائج پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بعض مقامات پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (EVM) کی ہیکنگ کا اندیشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، اس بڑی تبدیلی کی بنیادی وجہ مسلم ووٹوں کی کثیر الجہتی تقسیم ہے۔ اس بار میدان میں صرف ترنمول کانگریس ہی نہیں بلکہ کانگریس، انڈین سیکولر فرنٹ (ISF)، ہمایوں کبیر کی عام جنتا اونین پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) جیسی جماعتیں بھی سرگرم تھیں۔ مرشد آباد جیسے اضلاع میں پانچ مختلف جماعتوں نے نشستیں حاصل کیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ٹی ایم سی کا یکطرفہ ووٹ بینک بری طرح بکھر چکا ہے۔ دوسری جانب بی جے پی نے غیر مسلم ووٹوں کے استحکام (Consolidation) پر توجہ مرکوز رکھی، جس کے نتیجے میں اسے کم مارجن والی نشستوں پر بھی آسانی سے فتح حاصل ہو گئی۔

سوویندو ادھیکاری، جنہوں نے ممتا بنرجی کو بھوانی پور میں 15 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی اور نندی گرام میں بھی اپنی برتری برقرار رکھی، نے اس جیت کو ‘ہندوتوا اور ترقی’ کی فتح قرار دیا ہے۔ انہوں نے کھلے عام کہا کہ ہندوؤں اور دیگر اقلیتی طبقات جیسے سکھ، جین اور بدھ مت کے پیروکاروں نے بی جے پی پر بھروسہ کیا، جبکہ مسلم ووٹوں کی تقسیم نے ان کی جیت کی راہ ہموار کی۔ ادھیکاری کے بیانات نے جہاں بی جے پی کارکنوں میں جوش بھر دیا ہے، وہیں مسلم طبقے میں سیاسی بے وزنی اور مستقبل کے حوالے سے تشویش کی لہر بھی پیدا کر دی ہے۔

مغربی بنگال میں اقتدار کی یہ تبدیلی صرف ایک انتخابی ہار جیت نہیں بلکہ ریاست کے سماجی اور سیاسی تانے بانے میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاس ہے۔ بی جے پی نے شمالی بنگال اور جنوب مغربی بنگال میں اپنا غلبہ برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ کولکتہ اور اس کے گردونواح کے ان علاقوں میں بھی کامیابی حاصل کی ہے جہاں کبھی ترنمول کا طوطی بولتا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ بی جے پی کی نئی حکومت ریاست کے ان متنوع علاقوں میں کس طرح نظم و نسق چلاتی ہے اور مسلم اکثریتی علاقوں کی نمائندگی اور ترقی کے حوالے سے اس کا کیا رویہ رہتا ہے۔

شیئر کریں۔