کیرالہ اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج کے لیے جاری ووٹوں کی گنتی میں کانگریس کی قیادت والے اتحاد جمہوری محاذ (UDF) نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریاست میں اقتدار کی واپسی کے تمام امکانات روشن کر دیے ہیں۔ پیر کی صبح 8 بجے شروع ہونے والی گنتی کے چھ گھنٹے مکمل ہونے کے بعد یو ڈی ایف 140 رکنی اسمبلی میں 101 نشستوں پر واضح برتری حاصل کر چکا ہے، جو کہ اتحاد کی جانب سے مقرر کردہ 100 سیٹوں کے ہدف سے بھی زیادہ ہے۔ دوسری جانب برسرِ اقتدار سی پی آئی ایم کی قیادت والا بائیں بازو کا محاذ (LDF) محض 40 نشستوں کے اندر سمٹتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
اس انتخابی معرکے میں سب سے نمایاں جیت سابق وزیر اعلیٰ اومن چانڈی کے صاحبزادے چانڈی اومن نے حاصل کی ہے، جنہوں نے اپنے خاندانی گڑھ پتھوپلی سے 52,907 ووٹوں کے بھاری فرق سے کامیابی حاصل کر کے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اسی طرح ہری پاڈ سے کانگریس کے سینئر لیڈر رمیش چنیتھلا نے بھی 23,000 سے زائد ووٹوں کے فرق سے لینڈ سلائیڈ فتح درج کی ہے۔ ان نتائج نے ریاست میں گزشتہ کئی دہائیوں سے باری باری اقتدار کی تبدیلی کی روایت کو مزید تقویت دی ہے اور پنارائی وجین کی قیادت والی ایل ڈی ایف حکومت کے خلاف عوامی غم و غصے کو واضح کر دیا ہے۔
انتخابی رجحانات میں بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے (NDA) کے لیے صورتحال انتہائی مایوس کن ہے، جہاں ٹی وی رپورٹس کے مطابق وہ صرف 2 نشستوں پر برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ تھرشور میں پدماجا وینوگوپال کو ایک بار پھر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں وہ تیسرے نمبر پر رہیں۔ اس کے برعکس انڈین یونین مسلم لیگ (IUML) نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی 27 میں سے 23 نشستوں پر برتری برقرار رکھی ہے۔ مسلم لیگ کے ریاستی صدر سید صادق علی شہاب تھنگل نے اس کامیابی کو یو ڈی ایف کی ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے تبدیلی کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنارائی وجین کے اپنے حلقہ انتخاب دھرمادم میں بھی سخت مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں وہ کانگریس کے وی پی عبدالرشید کے خلاف جدوجہد کرتے نظر آئے۔ آر ایم پی لیڈر کے کے ریما نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دھرمادم میں وزیر اعلیٰ کی یہ مشکل صورتحال خود ایک بڑا سیاسی پیغام ہے۔ پیرمباوور اور وائپین جیسی اہم نشستوں پر بھی یو ڈی ایف کے امیدواروں نے ایل ڈی ایف کے مضبوط امیدواروں کو شکست دے کر اپنی برتری ثابت کی ہے۔
ریاست میں یو ڈی ایف کی اس ممکنہ جیت کے بعد کانگریس کے کیمپوں میں جشن کا سماں ہے اور کارکنوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہی رجحانات حتمی نتائج میں بدلتے ہیں تو یو ڈی ایف ایک مستحکم حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی۔ اب تمام نظریں گورنر ہاؤس کی طرف لگی ہوئی ہیں جہاں جلد ہی حکومت سازی کے لیے دعویٰ پیش کیے جانے کی توقع ہے۔




