تمل ناڈو کی سیاست میں آج ایک تاریخی اور غیر متوقع موڑ اس وقت دیکھنے میں آیا جب اسمبلی انتخابات 2026 کے گنتی کے رجحانات میں اداکار سے سیاست دان بننے والے وجے کی پارٹی ‘تملگا ویٹری کزگم’ (TVK) نے روایتی سیاسی طاقتوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ریاست کی تمام 234 نشستوں پر ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی پیر کی صبح شروع ہوئی، جس کے ابتدائی چند گھنٹوں میں ہی وجے کی پارٹی نے 100 سے زائد نشستوں پر برتری حاصل کر کے سیاسی پنڈتوں کو حیران کر دیا۔ الیکشن کمیشن کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق TVK فی الحال 105 نشستوں پر آگے ہے، جبکہ اکثریت کے لیے 118 کا ہندسہ درکار ہے۔
حکمران جماعت ڈی ایم کے (DMK) اور اس کے اتحادیوں کے لیے یہ نتائج کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں ہیں۔ وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن، جو 2011 سے کولتھور نشست کی نمائندگی کر رہے ہیں، اپنی ہی سیٹ پر TVK کے امیدوار وی ایس بابو سے پیچھے چل رہے ہیں۔ اسی طرح چنائی اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں، جو طویل عرصے سے ڈی ایم کے کا گڑھ تصور کیے جاتے تھے، وہاں وجے کی پارٹی نے کلین سویپ جیسی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ ادھایانیدھی اسٹالن بھی اپنی نشست پر سخت مقابلے کا سامنا کر رہے ہیں اور کئی راؤنڈز کے بعد پیچھے بتائے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف اے آئی اے ڈی ایم کے (AIADMK) اتحاد 68 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ ڈی ایم کے اتحاد محض 54 نشستوں پر سمٹتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تمل ناڈو میں نصف صدی سے جاری ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کی دو طرفہ سیاست اب تک کے سب سے بڑے بحران کا شکار ہے۔ وجے کی مقبولیت اور ریاست میں تبدیلی کی لہر نے ایگزٹ پولز کے تمام دعوؤں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ زیادہ تر ایگزٹ پولز نے ڈی ایم کے کی واپسی کی پیش گوئی کی تھی، تاہم صرف ‘ایکسس مائی انڈیا’ نے TVK کی بڑی کامیابی کا اشارہ دیا تھا۔ اب تک کی گنتی میں وجے خود اپنی دونوں نشستوں، پیرامبور اور تروچی ایسٹ سے بھاری اکثریت سے آگے چل رہے ہیں۔
ریاست میں 23 اپریل کو ہونے والی پولنگ میں ریکارڈ 85.1 فیصد ووٹ ڈالے گئے تھے، جو تمل ناڈو کی انتخابی تاریخ کا سب سے زیادہ تناسب ہے۔ اس وقت چنائی سمیت مختلف شہروں میں TVK کے کارکنوں نے جشن منانا شروع کر دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تمل ناڈو کے عوام اب روایتی کرپشن اور خاندان پرستی سے تنگ آ چکے تھے اور انہوں نے وجے کی صورت میں ایک نئی اور شفاف قیادت کو موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر یہ رجحانات حتمی نتائج میں تبدیل ہوتے ہیں تو وجے تمل ناڈو کے اگلے وزیر اعلیٰ بننے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔




