آبنائے ہرمز میں کشیدگی عروج پر: ایران کا امریکی جنگی جہاز پر میزائل حملے کا دعویٰ، واشنگٹن کی تردید

آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری شدید کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ پیر کے روز آبنائے ہرمز میں ایک امریکی جنگی جہاز کو اس وقت میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا جب اس نے ایرانی بحریہ کی جانب سے جاری کردہ انتباہ کو نظر انداز کیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی بندرگاہ جاسک کے قریب امریکی فریگیٹ پر دو میزائل داغے گئے جس کے بعد وہ اپنا راستہ بدل کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔ تاہم واشنگٹن نے ان دعوؤں کو فوری طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی امریکی بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ‘فارس’ کے مطابق نشانہ بننے والا بحری جہاز ٹریفک قوانین اور جہاز رانی کی سیکیورٹی کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی تہران کے اس عزم کا حصہ ہے جس کے تحت وہ آبنائے ہرمز کی حفاظت اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں کی نگرانی کو اپنی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ اس حملے کے دعوے کے ساتھ ہی پاسدارانِ انقلاب نے ایک نیا نقشہ بھی جاری کیا ہے جس میں آبنائے ہرمز کے ان علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو اب مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہوں گے۔ یہ زون ایران کے جزیرہ قشم سے لے کر متحدہ عرب امارات کے امارات ام القوین اور کوہِ مبارک سے فجیرہ تک پھیلا ہوا ہے۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے تہران کے دعوؤں کو من گھڑت قرار دیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں موجود تمام امریکی اثاثے محفوظ ہیں اور کسی قسم کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘پروجیکٹ فریڈم’ کے آغاز کا اعلان کیا ہے جس کے تحت امریکی بحریہ ان سینکڑوں تجارتی جہازوں کو نکالنے میں مدد کرے گی جو گذشتہ کئی ہفتوں سے اس تزویراتی آبی گزرگاہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایرانی ناکہ بندی کے باوجود عالمی تجارت کی بحالی کے لیے پرعزم ہے۔

خطے میں کشیدگی کا یہ تازہ لہر فروری 2026 میں ایران کے خلاف ہونے والے فضائی حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اگرچہ 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا، لیکن مذاکرات کی ناکامی اور امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کے بعد صورتحال دوبارہ دھماکہ خیز ہو گئی ہے۔ ایران نے متنبہ کیا ہے کہ اگر امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں مداخلت کی تو انہیں سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی 25 فیصد تیل کی تجارت ہوتی ہے، اس وقت ایک ‘ڈبل ناکہ بندی’ کا شکار ہے۔ ایک طرف امریکہ نے ایرانی تیل کی برآمد روکنے کے لیے ناکہ بندی کر رکھی ہے تو دوسری طرف ایران نے آبنائے ہرمز کو غیر ملکی جنگی جہازوں کے لیے نو گو زون بنا دیا ہے۔ اس تازہ واقعے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ سفارتی سطح پر پاکستان اور دیگر ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک بار پھر سرگرم ہو گئے ہیں۔

شیئر کریں۔