غزہ کا محاصرہ توڑنے کی کوشش ناکام، اسرائیل نے گلوبل صمود فلویٹلا’ کے 21 بحری جہاز قبضے میں لے لیے، 175 افراد گرفتار

صہیونی ریاست نے ایک بار پھر عالمی قوانین اور انسانیت کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بین الاقوامی پانیوں میں ‘گلوبل صمود فلویٹلا’ نامی نہتے امدادی قافلے پر دھاوا بول دیا۔ اسرائیل کی مسلح بحری افواج نے سمندر کے بیچوں بیچ غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 21 بحری جہازوں کو زبردستی اپنے قبضے میں لے لیا اور ان پر سوار 175 غیر مسلح انسانی حقوق کے رضاکاروں کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
انسانیت پر حملہ اور محاصرے کی سنگینی
یہ امدادی بیڑا کوئی فوجی خطرہ نہیں بلکہ 400 سے زائد ان مخلص شہریوں اور سماجی کارکنوں پر مشتمل تھا جو غزہ کے 20 لاکھ سے زائد محصور انسانوں کے لیے زندگی بچانے والی ادویات اور خوراک لے کر جا رہے تھے۔ اسرائیل، جو دہائیوں سے غزہ کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر چکا ہے، نے اس امدادی مشن کو بھی اپنی "سیکیورٹی” کے لیے خطرہ قرار دے کر اس وحشیانہ کارروائی کا دفاع کیا ہے—یہ وہی بیانیہ ہے جسے مغربی میڈیا من وعن پھیلاتا ہے تاکہ اسرائیل کے جنگی جرائم پر پردہ ڈالا جا سکے۔
ترکیہ کا سخت موقف: "یہ بحری قزاقی ہے”
ترک شہریوں کی بڑی تعداد پر مشتمل اس مشن کو نشانہ بنائے جانے پر ترکیہ نے سخت ترین الفاظ میں احتجاج کیا ہے۔ ترک وزارت خارجہ نے اسے ‘اسرائیلی ہٹ دھرمی’ اور ‘بحری قزاقی’ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایک مکمل طور پر انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے مشن کو فوجی طاقت کے ذریعے روکنا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

شیئر کریں۔