اتر پردیش کے ضلع بریلی میں انسانیت کو شرمسار کر دینے والا ایک لرزہ خیز واقعہ پیش آیا ہے، جہاں بہار کے ضلع کشن گنج کے رہائشی 30 سالہ عالم دین مولانا توصیف رضا مظہری کو چلتی ٹرین سے مبینہ طور پر بے رحمی سے مار پیٹ کے بعد نیچے پھینک دیا گیا۔ اتوار 26 اپریل کی رات پیش آنے والے اس واقعے کے بعد مولانا کی لاش ریلوے ٹریک سے برآمد ہوئی ہے۔ متوفی سیوان، بہار میں ایک مدرسے میں مدرس اور امام کے فرائض انجام دے رہے تھے اور بریلی میں عرس تاج الشریعہ میں شرکت کے بعد واپس گھر لوٹ رہے تھے۔
اس واقعے کا سب سے لرزہ خیز پہلو یہ ہے کہ جس وقت مولانا پر حملہ کیا گیا، وہ اپنی اہلیہ تبسم خاتون کے ساتھ ویڈیو کال پر تھے۔ تبسم خاتون کے مطابق ان کے شوہر شدید خوفزدہ تھے اور انہوں نے بتایا کہ کچھ لوگ انہیں بلاوجہ نشانہ بنا رہے ہیں۔ ویڈیو کال پر مولانا توصیف رضا کو گھسیٹتے، تھپڑ مارتے اور بدتمیزی کرتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ وہ بار بار اپنی بیگ اور کتابیں دکھا کر یہ دہائی دے رہے تھے کہ وہ چور نہیں بلکہ ایک استاد ہیں، لیکن ٹرین میں موجود کسی مسافر نے ان کی مدد نہیں کی۔
اہلیہ کا دعویٰ ہے کہ حملہ آوروں نے جان بوجھ کر مولانا توصیف کو ‘چور’ قرار دے کر ہجوم کو اشتعال دلایا تاکہ کوئی ان کے دفاع میں نہ آئے۔ ایک آڈیو ریکارڈنگ بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں مولانا کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ کچھ نشے میں دھت افراد انہیں ہراساں کر رہے ہیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ مولانا کی داڑھی اور ٹوپی کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ ایک منظم سازش معلوم ہوتی ہے۔ ریلوے حکام کی جانب سے اسے حادثہ قرار دینے کی کوششوں کو خاندان نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، ان کا موقف ہے کہ اگر یہ محض ٹرین سے گرنے کا واقعہ ہوتا تو جسم کی حالت مختلف ہوتی، جبکہ مولانا کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔
مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر متعلقہ آڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے ریلوے حکام اور اتر پردیش حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مجرموں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔ مقامی کمیونٹی اور سماجی تنظیموں نے بھی واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فی الوقت پولیس نے مولانا کا موبائل فون اور دیگر اشیاء ٹریک کے قریب سے برآمد کر لی ہیں، تاہم اہل خانہ قانونی چارہ جوئی کی تیاری کر رہے ہیں۔




