الہ آباد ہائی کورٹ نے قومی انسانی حقوق کمیشن کی کارکردگی اور دائرۂ اختیار سے متعلق ایک اہم معاملہ کی سماعت کے دوران کمیشن کےدائرۂ اختیار اور طریقۂ کار پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ جسٹس اتل سری دھرن اور جسٹس وویک سرن پر مشتمل بنچ نے اس معاملے کی سماعت کے دوران حیرانی کااظہارکیا کہ کمیشن اتر پردیش کے مدارس کی جانچ جیسے معاملات میں سرگرم نظر آتا ہے جبکہ ماب لنچنگ، ہجومی تشدد اور خودساختہ نگرانی کرنے والے گروہوں کے حملوں جیسے سنگین معاملات میں ازخود نوٹس لینے کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔ یہ معاملہ ٹیچرس ایسوسی ایشن مدارس عربیہ اترپردیش کی جانب سے دائر کی گئی ایک عرضی سے متعلق ہے، جس میں عدالت نے این ایچ آر سی کے ۲۸؍ فروری ۲۰۲۵ء کے حکم کا جائزہ لیتے ہوئے پایا کہ شکایت میں اتر پردیش کے سیکڑوں مدارس پر بدعنوانی، غیر معیاری تعلیم اور سرکاری گرانٹ کے غلط استعمال کے الزامات لگائے گئے تھے، جس پر کمیشن نے اتر پردیش کے ۵۵۸؍ امداد یافتہ مدارس کے خلاف اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) کے ذریعے جانچ کرانے کا حکم دیا تھا، اس حکم نامہ کے خلاف درخواست گزار نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ کمیشن کو اس طرح کی جانچ کا حکم دینے کا اختیار نہیں ہے۔عدالت اس سے قبل بھی اس حکم پر عبوری روک لگا چکی ہے۔
اس معاملے میں تازہ سماعت کے دوران جسٹس اتل سری دھرن نے سخت تبصرہ کیاکہ عدالت کو ایسی کوئی مثال معلوم نہیں جہاں انسانی حقوق کمیشن نے ان معاملات میں ازخود نوٹس لیا ہو، جن میں مسلمانوں پر حملے، ماب لنچنگ یا مقدمات کے اندراج اور تفتیش میں کوتاہی جیسے مسائل شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حساس معاملات میں کمیشن کی خاموشی تشویشناک ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ بظاہر قومی اور ریاستی انسانی حقوق کمیشن ایسے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں جو ان کے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں۔عدالت نے واضح کیا کہ کمیشن کے اختیارات ’پروٹیکشن آف ہیومن رائٹس ایکٹ ۱۹۹۳ء‘ تک محدود ہیں اور وہ کوئی ٹریبونل نہیں جو براہ راست تحقیقات کے احکامات جاری کرے۔
عدالت کے مطابق اگر ضرورت ہو تو وہ متعلقہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے یا ایف آئی آر درج کرانے کی سفارش کر سکتا ہے۔تاہم، جسٹس وویک سرن نے اپنے علیحدہ نوٹ میں جسٹس سری دھرن کے بعض مشاہدات، خصوصاً پیراگراف ۶؍ اور۷؍ میں کی گئی باتوں سے جزوی اختلاف کیا اور کہا کہ ایسے ریمارکس دینے سے قبل تمام فریقوں کو سننا ضروری تھا۔بہرحال عدالت نے ابتدائی طور پر یہ مانتے ہوئے کہ کمیشن نے ایسے معاملے میں شکایت قبول کی جس میں براہ راست انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سوال واضح نہیں،عدالت نے این ایچ آرسی کو اس معاملہ میںنوٹس جاری کیا ہے۔ ساتھ ہی مدارس کی ای او ڈبلیوجانچ پر عائد عبوری روک کو برقرار رکھا گیا ہے۔اس معاملے کی اگلی سماعت ۱۱؍ مئی ۲۰۲۶ء کو مقرر کی گئی ہے،جہاں عدالت فریقین کو سننے کے بعد مزید فیصلہ کرے گی۔عرضی گزارٹیچرس ایسوسی ایشن مدارس عربیہ اترپردیش نے الہ آباد ہائی کورٹ کے آرڈر کا خیر مقدم کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری اور مدعی دیوان صاحب زماں خاں نے’انقلاب‘ کوبتایا کہ جب آئینی عہدے پر بیٹھے ہوئے لوگ جانبداری کرنے لگتے ہیں ،تب عدالتیں ہی آخری سہارا ہوتی ہیں، ہائی کورٹ نے جس طرح کمیشن کو آئینہ دکھایا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ یہ آرڈر قانون کی بالادستی کا بہترین نمونہ ہے جس کی پزیرائی کی جانی چاہئے ۔واضح رہے کہ اس معاملے میں عرضی گزار کی جانب سے وکلاء ایچ پی شاہی، محمد علی اوصاف اور پرشانت شکلا عدالت میں پیروی کررہے ہیں جبکہ ریاستی حکومت کی نمائندگی سی ایس سی اور سینئر وکیل پرنو مشراکررہے ہیں۔مزید یہ کہ بنچ کے اندر جسٹس اتل سری دھرن اور جسٹس وویک سرن کے درمیان اختلافِ رائے سامنے آنے کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے کو آئندہ سماعت میں کسی بڑی بنچ (لارجر بینچ) کے حوالے کیا جا سکتا ہے، تاکہ اہم قانونی نکات پر حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔




