لنگی پہنی ہے ؟ ووٹ نہیں دے سکتے ، مغربی بنگال انتخابات کے آخری مرحلے کی پولنگ کے دوران عجیب و غریب واقعات

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کا دوسرا اور آخری مرحلہ بدھ کے روز کولکتہ اور چھ دیگر اضلاع کی 142 نشستوں پر پولنگ کے ساتھ مکمل ہو گیا۔ اگرچہ مجموعی طور پر ووٹنگ کا عمل پرامن رہا، لیکن کئی مقامات پر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے عائد کردہ عجیب و غریب پابندیوں اور تشدد کے چھٹ پٹ واقعات نے انتخابی عمل کو متاثر کیا۔ سب سے حیران کن واقعہ جنوبی 24 پرگنہ کے گوبوردانگا حلقے میں پیش آیا جہاں مرکزی فورسز نے لباس کی بنیاد پر ووٹرز کو روک دیا۔

گوبوردانگا کے کوچیلا پرائمری اسکول میں واقع بوتھ نمبر 189 پر دو معمر ووٹرز، دیشر علی منڈل اور گنیش مجمدار، جب اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے پہنچے تو سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں داخلے سے روک دیا۔ اہلکاروں کا موقف تھا کہ وہ ‘لنگی’ پہن کر ووٹ نہیں ڈال سکتے۔ متاثرہ ووٹرز نے بتایا کہ انہیں مجبوراً گھر واپس جا کر پینٹ پہننی پڑی تاکہ وہ اپنا ووٹ ڈال سکیں۔ اس واقعے پر عوامی حلقوں میں شدید برہمی پائی جا رہی ہے کیونکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹرز کے لیے کسی مخصوص ڈریس کوڈ کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی ہے۔

سیاسی تشدد کے حوالے سے جنوبی 24 پرگنہ کی بسنتی نشست سے بی جے پی امیدوار وکاس سردار پر مبینہ طور پر ترنمول کانگریس کے حامیوں نے حملہ کیا۔ وکاس سردار کی گاڑی میں توڑ پھوڑ کی گئی اور ان کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات بھی لگائے گئے۔ اسی طرح شمالی 24 پرگنہ کے پانی ہاٹی حلقے میں ای وی ایم مشین پر بی جے پی کے انتخابی نشان ‘کمل’ کے بٹن پر سیاہی لگی ہونے کی شکایت موصول ہوئی، جسے بعد ازاں سینیٹائزر کی مدد سے صاف کیا گیا۔

انتخابی ڈیوٹی پر مامور ٹیکسی ڈرائیوروں نے بھی نادیہ ضلع میں نیشنل ہائی وے 12 کو بلاک کر کے احتجاج کیا۔ ان کا الزام تھا کہ انہیں بوتھ پر ووٹ ڈالنے سے روکا جا رہا ہے، جبکہ انتخابی حکام کا کہنا تھا کہ ان کے نام پر پوسٹل بیلٹ جاری ہو چکے ہیں اس لیے وہ براہ راست ووٹ نہیں ڈال سکتے۔ سیکیورٹی فورسز نے مداخلت کر کے راستہ صاف کروایا۔ تلاشی کے دوران جگدل اور کیتوگرام جیسے علاقوں سے دیسی ساختہ اسلحہ اور خام بم بھی برآمد ہوئے، جس کے بعد پولیس نے حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے۔

الیکشن کمیشن کو ان تمام واقعات کی رپورٹ بھیج دی گئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بنگال جیسے حساس سیاسی ماحول میں لباس جیسی چھوٹی چیزوں پر پابندی لگانا یا ووٹرز کو ہراساں کرنا جمہوری عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان کھڑے کرتا ہے۔ اب تمام نظریں انتخابی نتائج پر مرکوز ہیں جو ریاست کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

شیئر کریں۔