کرناٹک میں گزشتہ کئی روز سے جاری قیادت کی تبدیلی اور سیاسی رسہ کشی کی خبروں پر کل ہند کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھڑگے نے اہم وضاحت پیش کی ہے۔ جمعرات کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کھڑگے نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ریاست میں فی الحال وزیر اعلیٰ کو تبدیل کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اس معاملے کو جلد ہی افہام و تفہیم کے ساتھ حل کر لیا جائے گا تاکہ پارٹی کے اندرونی معاملات میں استحکام پیدا ہو سکے۔
ریاست میں سیاسی ہلچل اس وقت تیز ہوئی جب 20 نومبر 2025 کو کانگریس حکومت نے اپنی پانچ سالہ مدت کے ڈھائی سال مکمل کر لیے۔ اس سنگ میل کے بعد سے ہی نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے حامیوں نے ان کے لیے اعلیٰ ترین عہدے کا مطالبہ تیز کر رکھا ہے۔ حامیوں کا دعویٰ ہے کہ 2023 میں حکومت سازی کے وقت سدارمیا اور ڈی کے شیوکمار کے درمیان ڈھائی ڈھائی سالہ اقتدار کی شراکت داری کا ایک غیر اعلانیہ معاہدہ طے پایا تھا جس پر اب عمل درآمد کا وقت آ گیا ہے۔
دوسری جانب ریاست کے وزیر داخلہ جی پرمیشور کے اس بیان نے نئی بحث چھیڑ دی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ملکارجن کھڑگے خود ریاست کی باگ ڈور سنبھالنا چاہیں تو پارٹی اس کا خیر مقدم کرے گی۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ میڈیا اور عوام کی خواہش اپنی جگہ لیکن ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ان کے نظریے اور پارٹی کے تئیں ان کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے سونیا گاندھی کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت یہ سوال اس لیے پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ریاست میں پہلے سے ایک وزیر اعلیٰ موجود ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کرناٹک میں قیادت کی تبدیلی یا کابینہ میں بڑی رد و بدل کا فیصلہ 4 مئی کے بعد متوقع ہے جب چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے کے اسمبلی انتخابات سمیت کرناٹک کی دو اسمبلی نشستوں کے ضمنی انتخابات کے نتائج سامنے آ جائیں گے۔ کھڑگے نے کہا کہ اگر سونیا گاندھی، راہول گاندھی اور وہ خود مل کر کسی تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس میں وقت لگے گا، لہذا فی الحال انتظار کرنا بہتر ہوگا۔
دریں اثنا اپوزیشن جماعت جے ڈی (ایس) کے لیڈر اور مرکزی وزیر ایچ ڈی کمار سوامی کے اس دعوے کو کھڑگے نے غیر اہم قرار دے کر مسترد کر دیا جس میں کمار سوامی نے کہا تھا کہ کانگریس کے تقریباً 40 ایم ایل اے دہلی جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ کانگریس صدر کا کہنا تھا کہ انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے اور اس طرح کی معلومات کے لیے کمار سوامی سے ہی تفصیلات طلب کی جانی چاہئیں۔ اس بیان کے بعد واضح ہو گیا ہے کہ کانگریس ہائی کمان فی الحال سدارمیا حکومت کو چھیڑنے کے حق میں نہیں ہے اور تمام تر توجہ انتخابی نتائج پر مرکوز ہے۔




