دسمبر تک بدل جائے گا ہائی ویز کا نظام، ٹول ٹیکس کی وصولی اب ہوگی مکمل ڈیجیٹل

مرکزی وزیر برائے روڈ ٹرانسپورٹ و شاہراہ، نتن گڈکری نے ملک کے ٹرانسپورٹ نظام میں ایک انقلابی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ رواں سال دسمبر تک کئی قومی شاہراہوں پر بغیر کسی رکاوٹ کے ٹول وصولی کا نیا خودکار نظام نافذ کر دیا جائے گا۔ ‘لاجسٹکس شکتی سمٹ اینڈ ایوارڈز 2026’ کے دوسرے ایڈیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے آنے کے بعد گاڑیوں کو ٹول پلازہ پر رکنے کی قطعی ضرورت نہیں رہے گی، جس سے نہ صرف ایندھن کی بچت ہوگی بلکہ سفر کا دورانیہ بھی کم ہو جائے گا۔

نتن گڈکری نے نئے نظام کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ سسٹم جدید ترین کیمروں اور سینسرز پر مبنی ہوگا جو تیز رفتار گاڑیوں کی نمبر پلیٹ کی فوری شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ اس نظام کے تحت فاسٹ ٹیگ اور الیکٹرانک سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے گا تاکہ گاڑی کے گزرتے ہی ٹول ٹیکس خودکار طریقے سے اکاؤنٹ سے کٹ جائے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں یا ٹول کی ادائیگی سے بچنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں ڈیجیٹل نوٹس بھیجنا اور متعلقہ گاڑی کا فاسٹ ٹیگ بلاک کرنا بھی شامل ہے۔

بھارت کو عالمی اقتصادی طاقت بنانے کے وژن پر بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ ملکی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے ٹرانسپورٹ لاگت (Logistics Cost) کو کم کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایکسپریس ویز اور اقتصادی راہداریوں کی تعمیر کی بدولت بھارت میں ٹرانسپورٹ لاگت 16 فیصد سے کم ہو کر اب 10 فیصد تک آ گئی ہے۔ ان کا ہدف اسے سنگل ڈیجیٹ (ایک ہندسے) تک لانا ہے تاکہ بھارت عالمی مارکیٹ میں چین، امریکہ اور یورپ کا مقابلہ کر سکے۔ واضح رہے کہ چین میں یہ لاگت 8 سے 10 فیصد کے درمیان ہے جبکہ مغرب میں 12 فیصد کے قریب ہے۔

ایندھن کی درآمدات اور ماحولیاتی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے نتن گڈکری نے کہا کہ بھارت اپنی تیل کی ضرورت کا 87 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے، جس پر سالانہ تقریباً 22 لاکھ کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ انہوں نے حیاتیاتی ایندھن (Bio-fuel) اور متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ نہ صرف غیر ملکی زرمبادلہ بچایا جا سکے بلکہ بڑھتی ہوئی آلودگی پر بھی قابو پایا جا سکے۔

مرکزی وزیر کے اس اعلان سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کا رخ اب مکمل طور پر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی طرف ہے، جہاں انسانی مداخلت کم سے کم اور ٹیکنالوجی کا استعمال زیادہ سے زیادہ ہو۔ اس نئے نظام کے نفاذ سے عام مسافروں کو ٹول پلازہ پر لگنے والی طویل قطاروں سے نجات مل جائے گی اور مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت میں بھی تیزی آئے گی، جو ملکی ترقی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔

شیئر کریں۔