بریکنگ نیوز : انصاف کی امید دم توڑ گئی، کیجروال کا دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس سورنا کانتا شرما کی عدالت میں پیش ہونے سے انکار

دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال نے دہلی شراب پالیسی کیس میں ایک انتہائی غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ہائی کورٹ کی جج جسٹس سورنا کانتا شرما کی عدالت میں پیش ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اروند کجریوال نے جج کو ایک خط لکھ کر واضح کیا ہے کہ اب انہیں اس عدالت سے انصاف ملنے کی کوئی امید باقی نہیں رہی، لہٰذا انہوں نے گاندھی جی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ‘ستیہ گرہ’ کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کجریوال نے نہ صرف خود پیش ہونے بلکہ اپنے کسی وکیل کو بھی اس سماعت میں بھیجنے سے انکار کر دیا ہے، جس نے قانونی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

اروند کجریوال نے اپنے خط اور ایک ویڈیو بیان میں موقف اختیار کیا ہے کہ ان کا ضمیر اس عدالت میں پیش ہونے کی اجازت نہیں دے رہا۔ انہوں نے کہا کہ زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جہاں جیت یا ہار اہم نہیں ہوتی بلکہ حق اور سچائی کا راستہ چننا ضروری ہو جاتا ہے۔ کجریوال کے مطابق انہیں جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا، جیل بھیجا گیا اور ایک منتخب حکومت کو غیر قانونی طور پر گرایا گیا۔ اگرچہ ٹرائل کورٹ نے انہیں 27 فروری کو بے قصور قرار دیتے ہوئے سی بی آئی کی تحقیقات پر سوالات اٹھائے تھے، مگر ہائی کورٹ میں معاملہ آنے کے بعد صورتحال بدل گئی ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ نے جسٹس سورنا کانتا شرما پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جج کے دونوں بچے مرکزی حکومت کے وکلاء کے پینل میں شامل ہیں اور چونکہ یہ کیس براہ راست مرکزی حکومت کے زیر انتظام سی بی آئی کا ہے، اس لیے انہیں غیر جانبدارانہ فیصلے کی توقع نہیں ہے۔ کجریوال نے یہ بھی کہا کہ جج اس نظریاتی نظام سے وابستہ پلیٹ فارمز سے جڑی رہی ہیں جس کی عام آدمی پارٹی مخالفت کرتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں لیکن انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔

دوسری جانب جسٹس سورنا کانتا شرما نے اروند کجریوال کی ان درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے جن میں ان سے کیس سے الگ ہونے کی استدعا کی گئی تھی۔ جج نے ریمارکس دیے کہ محض کسی کے اندیشوں یا مفروضوں کی بنیاد پر جج کیس سے الگ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاست دانوں کے بچے سیاست میں آ سکتے ہیں تو ججوں کے بچوں کا وکالت کے شعبے میں محنت کرنا اور اپنی جگہ بنانا غلط کیسے ہو سکتا ہے۔ عدالت نے کجریوال کے الزامات کو عدالتی عمل کو نیچا دکھانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے الزامات عدلیہ پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔

اس فیصلے کا سیاسی اور قانونی اثر انتہائی گہرا ہونے کا امکان ہے۔ اروند کجریوال نے اگرچہ موجودہ بنچ کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا ہے، لیکن انہوں نے اپنے قانونی حقوق محفوظ رکھتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا آپشن کھلا رکھا ہے۔ عام آدمی پارٹی اس اقدام کو سچائی کی جنگ قرار دے رہی ہے جبکہ مخالف سیاسی جماعتیں اسے عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی قرار دے رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچ سکتا ہے جہاں دہلی ہائی کورٹ کے اس پورے تنازع پر حتمی فیصلہ ہونے کی توقع ہے۔

اروند کجریوال کا یہ احتجاجی رویہ دہلی کی سیاست میں ایک نیا موڑ لے آیا ہے۔ ایک طرف جہاں قانونی ماہرین اسے عدالت کی توہین یا ضابطے کی خلاف ورزی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں، وہیں کجریوال اسے اخلاقی بنیادوں پر سچائی کی لڑائی قرار دے رہے ہیں۔ اس پورے واقعے نے مرکزی ایجنسیوں، عدلیہ کی غیر جانبداری اور سیاسی انتقام کے موضوع پر بحث کو دوبارہ چھیڑ دیا ہے جس کے اثرات آئندہ انتخابات اور عدالتی کارروائیوں پر نمایاں طور پر نظر آئیں گے۔

شیئر کریں۔