بھٹکل: قومی شاہراہ کے توسیعی کام کے دوران پائپ لائن پھٹنے سے لاکھوں لیٹر پانی ضائع ، ٹریفک کا نظام درہم برہم

بھٹکل (فکروخبرنیوز) بھٹکل شہر میں گزشتہ کئی برسوں سے جاری قومی شاہراہ کی تعمیراتی کام میں انتظامیہ اور ٹھیکیدار کمپنی کی مبینہ لاپرواہی کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تازہ ترین صورتحال کے مطابق رنگین کٹّے کے قریب ہائی وے کی توسیع کے دوران پینے کے پانی کی اہم پائپ لائن پھٹ گئی ہے، جس کی وجہ سے گزشتہ ایک ہفتے سے روزانہ ہزاروں لیٹر پینے کا صاف پانی ضائع ہو رہا ہے۔ پائپ لائن ٹوٹنے کی وجہ سے سڑک پر پانی جمع ہو گیا ہے جسے نکالنے کے لیے ٹھیکیدار کمپنی روزانہ جے سی بی کا استعمال کر رہی ہے، جو کہ ایک طرف پانی کا ضیاع ہے اور دوسری طرف ڈیزل کا بے جا خرچ۔ ایک طرف جہاں موسمِ گرما کی وجہ سے کڈوین کٹّہ ڈیم میں پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے، وہیں دوسری طرف لاکھوں لیٹر پانی سڑکوں پر بہہ رہا ہے جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔

بلدیہ کے انجینئرز اور ہائی وے اتھارٹی کے درمیان تال میل کی کمی کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔ بلدیہ حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ہائی وے اتھارٹی کو پائپ لائن منتقل کرنے کے لیے پہلے ہی مکتوب روانہ کیا تھا، لیکن اس پر کوئی عمل نہیں کیا گیا۔ شاہراہ کی تعمیر میں سستی اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے بس اسٹینڈ کے سامنے اور شہر کے دیگر حصوں میں ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا ہے۔ سڑک کے کنارے گاڑیوں کی بے ترتیب پارکنگ اور تعمیراتی ملبے کی وجہ سے سواروں بالخصوص بس ڈرائیوروں کو شدید دشواری ہو رہی ہے، جس کے باعث حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

مقامی شہریوں نے انتظامیہ کی اس پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اعلیٰ حکام فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کریں۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ فوری طور پر پائپ لائن کی مرمت کرائی جائے تاکہ پینے کے پانی کا ضیاع روکا جا سکے اور شاہراہ کے تعمیراتی کام کو منظم طریقے سے مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو ٹریفک کی تکلیف سے نجات مل سکے۔

شیئر کریں۔