سی ای ٹی امتحانی مرکز میں مذہبی علامات ہٹائے جانے کے معاملہ پر حکومت سخت

بنگلورو کے ماڈیوالا علاقے میں واقع ایک نجی امتحانی مرکز میں کامن انٹرنس ٹیسٹ (CET) کے دوران طلبہ کو مبینہ طور پرمذہبی علامات پر مجبور کرنے کے واقعے نے ریاست بھر میں شدید تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امتحانی عملے نے طلبہ سے دھاگے، کان کی بالیاں، چوڑیاں اور حجاب جیسی اشیاء ہٹانے کا مطالبہ کیا، یہاں تک کہ بعض امیدواروں کے لباس کی آستینیں بھی کاٹ دی گئیں، جسے حکومت اور مذہبی تنظیموں نے غیر انسانی اور توہین آمیز عمل قرار دیا ہے۔

ریاستی وزیر صحت دنیش گنڈو راؤ نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امتحانی مراکز کو طلبہ کے علم کا اندازہ لگانا چاہیے نہ کہ ان کی ذاتی یا مذہبی شناخت میں مداخلت کرنی چاہیے۔ وزیر نے متاثرہ طلبہ کو یقین دلایا کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور قصورواروں کے خلاف منصفانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔ انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک انویسٹی گیٹر کو معطل کر دیا ہے جبکہ عملے کے تین ارکان کو پولیس نے پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا ہے اور باقاعدہ مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب وشو ہندو پریشد نے بھی اس واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے مذہبی حقوق کی خلاف ورزی اور ثقافتی روایات کی توہین قرار دیا ہے۔ تنظیم نے حکام پر زور دیا ہے کہ دھاگے جیسی علامات کو ہٹانے پر مجبور کرنا مذہبی آزادی پر حملہ ہے، لہٰذا ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔ سی ای ٹی امتحان پیشہ ورانہ کورسز میں داخلے کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے ہزاروں خاندان اس مسئلے کو حساسیت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔

شیئر کریں۔