بنگال میں سیاسی گرما گرمی عروج پر: مودی کی ’’چھ گارنٹیوں‘‘ پر ٹی ایم سی کا سخت ریالٹی چیک


مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی ماحول گرم ہوتا جا رہا ہے، جہاں Narendra Modi نے ریاست کے لیے ’’چھ گارنٹیوں‘‘ کا اعلان کیا تو اس کے جواب میں Trinamool Congress نے سخت ردعمل دیتے ہوئے بی جے پی کے دعوؤں پر ’’سات نکاتی ریالٹی چیک‘‘ پیش کر دیا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب مودی نے پورب میدنی پور کے ہلدیا میں ایک بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کے اقتدار میں آنے کی صورت میں بڑی انتظامی اور سیاسی تبدیلیوں کا وعدہ کیا۔

اپنے خطاب میں مودی نے کہا کہ بی جے پی حکومت ریاست میں ’’خوف کے ماحول‘‘ کو ختم کر کے ’’اعتماد‘‘ کی فضا قائم کرے گی، انتظامی مشینری کو مکمل طور پر جواب دہ بنایا جائے گا اور بدعنوانی، خواتین کے خلاف جرائم اور دیگر مبینہ ناانصافیوں سے متعلق مقدمات دوبارہ کھولے جائیں گے۔ انہوں نے حکمراں جماعت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ ووٹ بینک کی سیاست کے تحت مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دے رہی ہے، اور یہ کہ بدعنوانی میں ملوث افراد کو جیل بھیجا جائے گا اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہوگا۔

مودی نے 2021 کے اسمبلی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جس طرح پورب میدنی پور میں بی جے پی نے 16 میں سے 15 نشستیں جیتی تھیں، اسی طرح پورا بنگال اب تبدیلی کے راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے نندی گرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جہاں Suvendu Adhikari نے Mamata Banerjee کو شکست دی تھی، ویسا ہی نتیجہ بھوانی پور میں بھی دہرایا جا سکتا ہے۔ آسنسول میں ایک اور ریلی کے دوران انہوں نے ریاست میں صنعتی زوال اور خواتین کے خلاف جرائم، خصوصاً تیزاب حملوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔

تاہم ٹی ایم سی کے راجیہ سبھا لیڈر Derek O’Brien نے سوشل میڈیا پر مودی کے دعوؤں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات حقیقت سے دور ہیں۔ انہوں نے نیتی آیوگ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں اب بھی 21 کروڑ افراد شدید غربت کا شکار ہیں۔ اوبرائن نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال کی معیشت گزشتہ 15 برسوں میں پانچ گنا بڑھی ہے اور ریاست میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ٹی ایم سی نے روزگار کے محاذ پر بھی حکومت کے خلاف دعویٰ کیا کہ بنگال میں بے روزگاری میں 40 فیصد کمی آئی ہے اور دو کروڑ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے مغربی بنگال کے لیے مختص تقریباً دو لاکھ کروڑ روپے روک رکھے ہیں، جس سے ریاستی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔ قانون و نظم کے حوالے سے بھی ٹی ایم سی نے مؤقف اختیار کیا کہ کولکاتا مسلسل ملک کے محفوظ ترین شہروں میں شمار ہوتا رہا ہے۔

اسی دوران ممتا بنرجی نے شمالی 24 پرگنہ میں ایک ریلی کے دوران دعویٰ کیا کہ اسمبلی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے 90 لاکھ سے زائد ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ٹی ایم سی اس معاملے کو عدالت میں لے جائے گی تاکہ متاثرہ افراد کے حقوق بحال کیے جا سکیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مغربی بنگال میں انتخابی فضا شدید بیانات، جوابی حملوں اور اعداد و شمار کی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جہاں ہر فریق اپنی کارکردگی کو بہتر اور مخالف کو ناکام ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔