کرناٹک : یکم اپریل سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ، بجلی نرخوں میں بھی اضافہ متوقع

بنگلورو: کرناٹک میں یکم اپریل سے نئے مالی سال 2026-27 کے آغاز کے ساتھ ہی مہنگائی کی لہر آنے کا امکان ہے، جس کے باعث گھریلو اور کاروباری اخراجات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ بجلی، پانی، ٹول ٹیکس، اشیائے ضروریہ، ادویات اور سفر کے اخراجات بڑھنے جا رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کرناٹک الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن (KERC) بجلی کے نرخوں میں 40 سے 45 پیسے فی یونٹ تک اضافہ منظور کر سکتا ہے، جبکہ بنگلورو میں بیسکوم (BESCOM) کے صارفین کو 55 پیسے فی یونٹ تک اضافے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ اضافہ بڑھتی ہوئی بجلی کھپت اور گرمی کے موسم میں اے سی اور زرعی پمپوں کے زیادہ استعمال کی وجہ سے بتایا جا رہا ہے۔

بنگلورو کے شہریوں کے لیے بنگلورو واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ (BWSSB) کی جانب سے پانی کے نرخوں میں تقریباً 3 فیصد اضافہ بھی متوقع ہے، جبکہ قومی شاہراہوں پر ٹول چارجز میں 3 سے 5 فیصد اضافہ ہوگا، جس سے روزانہ سفر کرنے والوں پر اضافی بوجھ پڑے گا۔

ادھر اشیائے ضروریہ جیسے دالیں، خوردنی تیل، مکھن، سیمنٹ اور لوہے کی قیمتیں پہلے ہی بڑھ چکی ہیں، جبکہ تقریباً 900 ادویات مہنگی ہونے والی ہیں اور کچھ پر 12 فیصد جی ایس ٹی بھی لاگو ہوگا۔ اس کے علاوہ ایئر کنڈیشنر، کولر اور ہوائی سفر کے کرایوں میں بھی اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔

حکام کے مطابق ان تمام اضافوں کے نتیجے میں نئے مالی سال کے آغاز پر عوام کو مہنگائی کے دوہرے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے شہری اور دیہی دونوں طبقے متاثر ہوں گے۔