یورپی یونین کو ایران جنگ کے باعث توانائی بحران کے طویل خطرات، بروقت تیاری کی ہدایت

(فکروخبر/ذرائع) یورپی یونین کے توانائی شعبے کے سربراہ نے رکن ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ایران سے متعلق جنگی صورتحال کے نتیجے میں توانائی کی عالمی منڈیوں میں طویل تعطل پیدا ہو سکتا ہے، جس کے لیے فوری اور پیشگی تیاری ضروری ہے۔

30 مارچ کو لکھے گئے ایک خط میں یورپی انرجی کمشنر ڈین جورجینسن نے وزرائے توانائی کو ہدایت دی کہ ممکنہ طویل مدتی خلل کے پیش نظر حکمت عملی مرتب کی جائے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ درآمدی ایندھن پر یورپ کا زیادہ انحصار اسے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات کے مقابلے میں کمزور بناتا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد یورپ میں گیس کی قیمتوں میں 70 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اگرچہ آبنائے ہرمز کی بندش سے یورپ کو براہِ راست تیل اور گیس کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی، تاہم کمیشن کو خاص طور پر پیٹرولیم مصنوعات، جیسے ڈیزل اور ہوائی جہازوں کے ایندھن کی قلت کا خدشہ ہے۔

خط میں حکومتوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو ایندھن کے استعمال میں اضافے یا پیٹرولیم مصنوعات کی تجارت میں رکاوٹ کا باعث بنیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یورپی ریفائنریز کی پیداوار برقرار رکھنے اور غیر ہنگامی مرمت کے کام مؤخر کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے، تاکہ ممکنہ بحران کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔